انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 556
تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ۵۵۶ سورة المؤمنون میں نے تمہارا امتحان لینا چاہا اگر تم امتحان میں ناکام ہو گے تو میرے فضلوں اور رحمتوں کو حاصل کرنے والے نہیں ہو گے بلکہ میرے غضب اور قہر کی تجلیات تم پر ظاہر ہوں گی لیکن اگر خشیت اللہ رکھو گے اور خدا تعالیٰ کے نشانات پر ایمان لاؤ گے تو حقیقی نیکی کرنے والے بن جاؤ گے۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ ۷ ۳ تا۳۹) دوسری بات میں اختصار کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ مومنون کی اس آیت میں جو ابھی میں نے پڑھی ہے یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی دینی اور دنیوی ترقی کے لئے اور حسنات کے حصول کے سامان پیدا کرنے کیلئے ”حق“ کو اُتارا ہے یعنی ایک قائم رہنے والی اور دائمی شریعت اور صداقت اور حق اور حکمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور اسی نزولِ حق کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حدود مقرر کر دیئے ہیں۔ہر انسان ایک انفرادیت اپنے اندر رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ ہی کی عطا ہے۔اسی کے مد نظر اللہ تعالیٰ نے ایک حد تک ڈھیل بھی دی ہے۔اسی لئے فرمایا کہ جنت کے آٹھ دروازے ہوں گے سات دروازے ایثار اور قربانی کی مختلف راہوں کو اختیار کرنے والوں کے لئے کھلیں گے کوئی ایک طرف سے خدا کی رضا کی جنت میں آ رہا ہے اور کوئی دوسری طرف سے لیکن کچھ وہ بھی ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ فضل کرے گا اور فضل کا خاص دروازہ ان کے لئے کھولا جائے گا خواہش تو ہر ایک کی ہے اور ہونی چاہیے کہ وہ خاص دروازہ جو محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے کھولا جائے گا وہی اس کے لئے کھلے کیونکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ شخص اپنی عاجزی کی انتہا کو پہنچ گیا اور اس نے اپنا کچھ نہ سمجھا اور ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر رکھا۔دیکھو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضل اور بلند تر ہستی ہے کہ جس نے خدا کی راہ میں وہ قربانیاں دیں کہ کسی ماں جائے کو یہ توفیق نہ ملی اور نہ ملے گی کہ اس قسم کی قربانیاں اپنے رب کے حضور پیش کرے لیکن اس کے باوجود آپ نے اپنا یہی مقام سمجھا اور آپ اسی مقام پر قائم رہے کہ میں کچھ نہیں۔ہر چیز اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوسکتی ہے میرا اللہ کے اس ارفع قرب کو پالینا بھی محض اسی کے فضل کا نتیجہ ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حق نازل ہوا ہے اب حق تمہاری خواہشات کی اتباع نہیں کرے گا۔اس ”حق“ نے کچھ حدود مقرر کی ہیں اور تمہاری خواہشات اور ہوائے نفس ان حدود سے باہر نکلنا چاہتے ہیں اس کی تمہیں اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ اگر ایسا کیا جاتا تو لَفَسَدَتِ السَّموتُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ زمین و آسمان کو جس غرض