انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 549
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۵۴۹ سورة المؤمنون بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة المؤمنون آیت ۴ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تہذیب اخلاق کے لئے جو احکام دیئے ہیں وہ دو حصوں پر منقسم ہوتے ہیں۔ایک نہ کرنے کی باتیں ہیں۔ایک کرنے کی باتیں ہیں۔ان دوحصوں پر منقسم ہونے کے بعد پھر تفصیل کے ساتھ وہ تمام احکام ہمیں دے دیئے گئے جن کا تعلق ان تمام قوتوں اور استعدادوں کے ساتھ تھا جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس لئے عطا کیں کہ وہ ان کی صحیح نشو و نما کر کے اپنے رب کریم کے اخلاق کا رنگ اپنے پر چڑھا سکے۔(تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ الله)۔نہ کرنے والی جو باتیں ہیں ان کا تعلق بنیادی طور پر هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ سے ہے، لغو سے بچنا، کوئی ایسی بات نہ کرنا، کوئی ایسا کلمہ منہ سے نہ نکالنا، کوئی ایسا کلام نہ سننا، ایسے اعمال بجانہ لانا جولغو ہوں۔لغو کے معنی یہ ہیں کہ بے مقصد ہو اور بے فائدہ ہو اور نجس ہو اور گندہ ہو اور فتیح۔تو اس چھوٹے سے فقرے میں ان اخلاق کی بنیادی بات ہمیں بتائی گئی جن کا تعلق ” نہ کرنے کے ساتھ تھا۔ہر وہ بات، ہر وہ فعل جس کا کوئی نتیجہ ہماری زندگی میں خوشکن نہیں نکلتا، وہ لغو میں شامل ہو جاتا ہے۔فتیح باتیں نتیج اعمال جو ہیں ان کا تعلق لغو کے ساتھ ہے۔پہلی چیز تو یہ ہے کہ انسان کو کچھ کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے، نہ کرنے کے لئے پیدا نہیں کیا گیا۔اس واسطے اچھے اخلاق کی بنیاد اس بات پر رکھی کہ ایک مومن، مسلم احمدی کے اوقات ضائع نہیں کئے جائیں گے۔ایسی باتیں کرنا جن کا کوئی فائدہ نہ ہو، کہیں لگانا، وقت ضائع کرنا یہ تمام چیزیں لغو کے اندر آ جاتی ہیں۔