انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 528
۵۲۸ سورة الحج تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث سامنے عاجزی وہ کرتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے تو اس کا دل کانپ اٹھتا ہے اس کا دل گداز ہو جاتا ہے جس کا دل صحیح معنی میں اور حقیقی طور پر گداز نہیں وہ محبت اور عاجزی کرنے والا نہیں بن سکتا اور جو عاجز نہیں جو محبت نہیں وہ اسلام کے تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتا اور جو مسلمان نہیں وہ خدائے واحد و یگانہ کی پرستش نہیں کرتا۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۴۷۰) آیت ۴۰ أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ میں یہ بتارہا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک انگوٹھی پر ”مولا بس“ کندہ ہے۔اس حقیقت کو جب ایک مسلمان پہچان لیتا ہے تو پھر اس کے لئے دنیا کے اموال میں، دنیا کی قوتوں اور استعدادوں میں، دنیا کی ذہانتوں اور فراستوں میں کوئی کشش نہیں ہوتی۔وہ سمجھتا ہے ”مولا بس“ اللہ تعالیٰ اس کے لئے کافی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو شروع میں ایک لمبے عرصہ تک دکھ سہنے پڑے، ان کو دھوپ میں لٹایا گیا، ان پر پتھر رکھے گئے اور جس طرح بھی ممکن تھا ان کو تکالیف دی گئیں لیکن انہوں نے انتہائی ثبات قدم کا نمونہ دکھایا کیونکہ ان کو خدا کا یہ حکم تھا کہ جو خدا نے کہا ہے وہ تم نے کرنا ہے۔پھر اس کے بعد خدا تعالیٰ نے کہا:- أذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا کہ اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین پر ظلم کی انتہا ہو گئی ہے اس لئے ان کو اجازت دی جاتی ہے کہ وہ ظلم کا مقابلہ کریں۔تب انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ان کے پاس سیف ہندی یا زنگ آلود معمولی سی تلوار ہے (ہندوستان کی بنی ہوئی تلواریں بہت مشہور تھیں، بڑے اچھے لو ہے اور بڑی تیز دھار والی تھیں) غرض دنیا کی بہترین تلوار کفر کے ہاتھ میں تھی اور مسلمانوں کے ہاتھ میں زنگ آلود تلوار میں تھیں جن پر دندانے پڑے ہوئے تھے اور کچھ تو مانگی ہوئی تھیں۔انہوں نے کہا۔مولابس۔چنانچہ ٹوٹی ہوئی تلوار میں لے کر ننگے پاؤں لڑنے کے لئے چلے گئے کیونکہ خدا نے کہا تھا لڑو۔مارنے اور ہلاک کرنے کے لئے نہیں بلکہ عرب میں امن اور آشتی پیدا کرنے کے لئے۔یہ دفاعی جنگ تھی ظلم کو مٹانے اور جنگوں کا خاتمہ کرنے کے لئے اور پھر فتح مکہ کے موقع پر تھوڑے سے ہتھیار استعمال ہوئے مگر جنگوں کا خاتمہ ہو گیا۔چنانچہ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم