انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 527
۵۲۷ مورة الحج تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث خدا تعالیٰ نے ان کی نگہداشت تمہارے سپرد کی ہے عورت کمزور وجود ہوتی ہے اور اپنے حقوق کی خود حفاظت نہیں کر سکتی۔تم نے جب ان کے ساتھ شادی کی تھی تو تم نے خدا تعالیٰ کو ان کے حقوق کا ضامن بنایا تھا اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات کا ضامن ٹھہراتا ہے کہ اس کی اس ضمانت کی وجہ سے جس کا واسطہ دے کر تم نے یہ ذمہ داری لی تھی عورتوں کے حقوق کی پوری طرح نگہداشت کرنا ، ان سے حسنِ سلوک کرنا، ان کی کمزوریوں کو وجہ طعن نہ بنانا بلکہ اس وجہ سے انہیں رحم اور حسن سلوک کا مقام ٹھہرانا۔پھر دنیا میں ہمیشہ ہی انسان جنگیں بھی لڑتے آئے ہیں کبھی جائز اور کبھی نا جائز۔جائز جنگ کے نتیجہ میں بھی جوجنگی قیدی مسلمان کے ہاتھ میں تھے ان کے متعلق ارشاد فرماتے ہوئے ایک مسلمان سے کہا کہ تمہارے ہاتھوں میں ابھی کچھ جنگی قیدی بھی باقی ہیں میں تمہیں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ان کو وہی کھلانا جو تم خود کھاتے ہو اور ان کو وہی پہنا ؤ جو تم خود پہنتے ہو کیونکہ وہ بھی خدا کے بندے ہیں اور ان کو تکلیف دینا کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔اے لوگو! جو کچھ میں تم سے کہتا ہوں تم اچھی طرح اس کو یا درکھو۔پھر انسانی شرف کو اصولی طور پر قائم کرنے کے لئے یہ اعلان کیا کہ تم انسان خواہ کسی قوم اور حیثیت کے ہوانسان ہونے کے لحاظ سے ایک درجہ رکھتے ہو اور پھر یہ کہتے ہوئے آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے اور دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو اس طرح ملا دیا اور کہا جس طرح ان دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں برابر ہیں اسی طرح تم بنی نوع انسان (مسلمان نہیں ) آپس میں برابر ہو۔تمہیں ایک دوسرے پر فضیلت اور درجہ ظاہر کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۱۰۲۰ تا ۱۰۲۳) فَالهُكُمُ الهُ وَاحِدٌ فَلَةَ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُم یعنی تمہارا خدا اور معبود خدائے واحد و یگانہ ہے اس لئے (آسلموا ) اپنا سب کچھ اس کے حضور پیش کر دو اور اس کے حضور اس طرح اپنی گردن کو جھکا دو جس طرح ایک بکرا قصاب کی چھری کے سامنے مجبور ہو کر اپنی گردن جھکا دیتا ہے۔تم طوعاً اور بشاشت کے ساتھ اسلام کے تقاضوں کو پورا کرنے والے بن جاؤ۔وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِيْن اور ہم اس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان لوگوں کو اپنے انعامات کے حصول کی خوشخبری دیتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے سامنے عاجزی کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے