انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 526
۵۲۶ سورة الحج تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث اسی مضمون کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری وصیت میں بیان کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حرمتوں اور اس کے شعائر کی طرف توجہ دلائی ہے (کتاب الحج باب الخطبة ايام الملی) کیونکہ لغت عربی میں شعائر ( جو شعیرہ کی جمع ہے) کے معنی ہیں كُلُّ مَا جُعِلَ عَلَمَّا لِطَاعَةِ اللهِ یعنی وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے لئے بطور نشان قائم کیا جائے اور قرآن کریم کی زبان میں شعیرہ (اس کی جمع شعائر ہے) کے معنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے نشان کے علاوہ اس نشان کے بھی ہیں جو صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ تمہاری جانوں اور تمہارے مالوں کو خدا تعالیٰ نے ایک دوسرے کے حملہ سے قیامت تک کے لئے محفوظ قرار دیا ہے۔(کتاب الحج باب الخطبة ايام الیلی) دوسرے مذاہب گو اصل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی تھے لیکن اب ان کی شکل بدل چکی ہے اور وہ محرف شکل میں ہمارے سامنے ہیں۔ان میں بہت محمد ودصداقت پائی جاتی تھی اور وہ مختص القوم اور مختص الزمان تھے بعد میں ان میں انسانی ہاتھ نے بڑا رڈو بدل کیا اور ان کی شکل کو مسخ کر دیا۔بہر حال جس شکل میں بھی دوسرے مذاہب ہمارے سامنے ہیں۔میں تحدی کے ساتھ کہتا ہوں کہ ان میں سے کسی مذہب نے اپنے مذہب سے باہر والوں کی جان ومال کی حفاظت نہیں کی اور نہ ان کے جذبات کا خیال رکھا ہے نہ ان کی عزتوں کی حرمت کو پہچانا ہے ان کے مقابلہ میں اسلام میں یہ بڑا حسن پایا جاتا ہے کہ اس نے انسان کی عزت اور اس کی جان اور اس کے مال کی حفاظت کا بیڑا اُٹھایا ہے۔قرآن کریم یہ نہیں کہتا کہ ایک مسلمان کی ناحق جان نہ لینا ہاں اگر ایک غیر مسلم کی جان نا حق لے لو تو ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے قرآن کریم اس قسم کی تعلیم نہیں دیتا، اسلام یہ نہیں سکھاتا، اسلام تو یہ کہتا ہے کہ کوئی مسلم ہو یا غیر مسلم تو حید پرست ہو یا دہر یہ خدا تعالیٰ کو گالیاں نکالنے والا ، انسان ہونے کے لحاظ سے وہ سب برابر ہیں اگر کوئی خدا تعالیٰ کو گالیاں دیتا ہے تو خدا تعالیٰ اس سے انتقام لے گا اور اسے سزا دے گا لیکن تمہارا یہ فرض ہے کہ اس شخص کی بھی جان نہیں لینی ، اس کا مال بھی غصب نہیں کرنا اس کے ساتھ بھی دھوکا کا معاملہ نہیں کرنا، اس کے جذبات کو بھی ٹھیس نہیں لگانی ، اس کی وہ عزت اور احترام کرنا ہے جو انسانیت کی عزت اور احترام ہے اور جسے اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے یہ کہلوایا کہ تم سن رکھو اور اسے یاد رکھو کہ اپنی بیویوں سے ہمیشہ اچھا سلوک کرنا کیونکہ