انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 525 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 525

۵۲۵ سورة الحج تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اطاعت سے باہر ہو کر نہ میری روح میں وہ حیات جس کے لئے وہ پیدا کی ہے پیدا ہوسکتی ہے اور نہ اسے کوئی بقا ہل سکتی ہے کوئی کہہ سکتا ہے کہ روح نے تو باقی رہنا ہے لیکن وہ کیا بقاء ہے جس کے متعلق قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ جہنم کے اندر نہ زندہ ہوں گے نہ مردہ ہوں گے اور اسی پر زور دینے کے لئے پھر فرمایا کہ ان کے گوشت اور ان کے خون خدا کے حضور عزت کے ساتھ پیش نہیں کئے جاتے تا ان پر کوئی ثواب ملے بلکہ تمہارے دل کا تقویٰ خدا کے حضور پیش ہوتا ہے اور اس پر ثواب ملتا ہے اور جزا نکلتی ہے ان تمام چیزوں کو ہم نے تمہارے لئے مسخر کیا ہے اور پھر ان میں سے بعض کو تمہارے لئے ایک خاص وقت تک کے لئے عزت اور عظمت والا قرار دے دیا چنا نچہ ان اونٹنیوں کو یا ان گائیوں کو یا ان بھیڑوں اور بکریوں اور دنبیوں کو جو قربانی کے لئے جا رہی ہوتی ہیں اس وقت سے پہلے کہ ان کو قربان کیا جائے یعنی ان کی قربانی کا وقت آجائے ان کی عزت قائم کی۔پھر بعد میں ان کو ذبح کروادیا یعنی ایک وقت میں کہا کہ اگر تم ان کی عزت نہیں کرو گے تو میں ناراض ہو جاؤں گا اور دوسرے وقت میں یہ کہا کہ اگر تم ان کو ذبح نہیں کرو گے اور ان کی جان نہیں لو گے تو میں تم سے ناراض ہو جاؤں گا۔اور ہمیں بتا یا سحر کا لکھ ہم نے ان کی اس قسم کی تسخیر کی ہے کہ تمہارے ہاتھ سے ہی ان کی زندگی قائم بھی رکھتے ہیں اور تمہیں یہ بھی کہتے ہیں کہ بُری نگاہ سے ان کی طرف نہ دیکھنا۔گویا ایک زمانہ جانور پر یہ آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے ان کی طرف بُری نگاہ سے نہ دیکھنا اور پھر اس پر وہ زمانہ بھی آتا ہے جب خدا تعالیٰ کہتا ہے تم چھری سے ان کو ذبح کر دو پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک وقت تک تمہارے ہی ہاتھ سے میں ان کو زندہ رکھتا ہوں اور پھر تمہارے ہاتھ سے ہی ان کی موت کے سامان پیدا کر دیتا ہوں۔سَخَّرَهَا لَكُم اور یہ اس لئے کیا کہ لِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلَى مَا هَد لكم تمہارے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اور اس کا جلال موجزن ہوا اور تم خدا تعالیٰ کی حمد کرو کہ کس طرح اس نے ہمیں تمام جھمیلوں سے بچا کر اپنے قدموں پر لا کر بٹھا دیا ہے اور کامل اور حقیقی اور ہمیشہ رہنے والی ہدایت تمہارے ہاتھ میں دی ہے وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ اور جو حسن تمام اعمال کو حسن کے ساتھ اور توجہ کے ساتھ اور تقویٰ کے ساتھ اور ایثار کے ساتھ اور قربانی کے جذبات کے ساتھ اور اپنے آپ کو لا شي محض سمجھنے کے ساتھ کرتے ہیں ان کو بشارتیں دے دو اور چونکہ کبشرِ الْمُحْسِنِينَ میں بشارت کی تعیین نہیں کی اس لئے ہم اس کے یہ معنی کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر قسم کی بشارتیں ان کو ملیں گی۔