انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 524 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 524

تغییر حضرت خلیفہ المسیح الثالث على مَا هَدَ لَكُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ۔۵۲۴ سورة الحج پھر مسلمان کے متعلق یہ کہا کہ سات سو حکم میں نے تمہیں دیا ہے ان میں سے ہر حکم کوئی نہ کوئی حق ادا کر رہا ہے۔اسلام میں کوئی ایسا حکم نہیں جس کے نتیجہ میں کوئی حق بھی ادا نہ ہورہا ہو۔اسلام کے ہر حکم کے نتیجہ میں کوئی نہ کوئی خدا تعالیٰ کا قائم کردہ حق ادا ہو رہا ہے۔پس کہا کہ جب اللہ تعالیٰ کے لئے اور اس کی رضا کے حصول کے لئے اس کے بندے اس کے احکام بجالائیں تو دوسرے ان کے ساتھ تعاون کریں۔تعاون کی آگے پھر کئی شکلیں ہیں مین اس وقت تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔پہلی آیت جو میں نے تلاوت کی ہے وہ تو سورہ مائدہ کی ہے اور دوسری سورہ حج کی آیات میں اس اصول کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ اصل چیز اطاعت ہے۔ہر بندے کے حق کی ادائیگی کی روح اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اگر وہ نہیں تو پھر کوئی ثواب نہیں ہے۔فرما يا وَ مَنْ يُعَظِمُ حُرُمَتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ عِنْدَ رَتے اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ عزتوں کو تعظیم کی نظر سے دیکھے گا تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں یہ بڑی محبوب چیز ہوگی۔اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے محبت کرنے لگے گا اور ساتھ ہی یہ تنبیہ کر دی کہ بکری کی یا بھیٹر کی یا دنبے کی یا گائے کی یا اونٹنی کی اس لئے عزت نہیں کرنی کہ کوئی شرک کا سوال ہے۔گائے کی عزّت اس لئے نہیں کرنی کہ ہندوؤں کی طرح یہ سمجھا جائے کہ یہ گاؤ ماتا ہے یا یہ بھی ایک خدا ہے یا جو دوسرے جانور ہیں ان کے ساتھ بھی شرک نہیں آنا چاہیے اسی واسطے یہاں شرک کی نفی کی ہے اور شرک کے خلاف تعلیم دی ہے یعنی جہاں یہ فرمایا کہ وَ مَنْ يُعَظِمُ حُرمتِ اللهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ عِنْدَ رَبِّہ اور ساتھ ہی یہ کہہ دیا کہ فَاجْتَنِبُوا الرّجسَ مِنَ الأوثان یعنی ان کو خدائی نہیں دینی ہاں ان کو خدا تعالیٰ کا مقررہ کردہ عزت اور احترام دینا ہے۔یہاں اس فرق کو نمایاں کر دیا کہ شرک کسی خفیہ راستہ سے بھی انسان کے دل اور دماغ میں گھس کر اسے اندھیرا کرنے کی کوشش نہ کرے اور پھر فرمایا ذلِكَ وَ مَنْ يُعَظِمُ شَعَابِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے نشانوں کی عزت قائم کرتا ہے وہ اس لئے کرتا ہے کہ اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ ہے۔وہ شرک کی وجہ سے ایسا نہیں کرتا یا کسی اور سبب سے بھی نہیں کرتا۔اس کو یہ پتہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کی اطاعت میری روح ہے اور میری زندگی ہے۔اس کی