انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 45
سورة المائدة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث جب یہ کہا لا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا ( التوبه : ۶۱) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہا کہ نا کامی اور نامرادی کا خوف دل میں نہ لا۔اِنَّ اللهَ مَعَنا خدا ہمارے ساتھ ہے اور جو شخص تقویٰ پر قائم ہو احسن اعمال بجالانے والا ہواللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں وہ نا کام کیسے ہوسکتا ہے؟ تو یہاں پر لا تحزن کا مطلب یہ ہے کہ اے ہمارے رسول ! ہم تمہارے ساتھ ہیں تم نا کام نہیں ہو سکتے اس واسطے نا کامی کا کوئی غم نہیں۔دوسرے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ دیا تھا کہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو تو ہماری مدد اور نصرت اس رنگ میں تمہارے شامل حال ہو جائے گی کہ غیر تمہارے پر فتح نہیں پا سکے گا۔تمہارے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہو سکے گا جیسا کہ آل عمران میں فرمایا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَونَ إِنْ كُنْتُمُ مؤْمِنِينَ (ال عمران : ۱۳۰) اگر تم حقیقی مومن ہو اور ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے والے ہو تو کامیابی تمہارے نصیب میں ہے۔اس واسطے تمہیں غمگین ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اول المؤمنین تھے۔آپ سے بڑھ کر کوئی مؤمن نہیں تھا تو یہاں یہ فرمایا کہ تم اول المؤمنین ہو تم نے ہی کامیاب ہونا ہے اس واسطے لا تحزن پریشان ہونے کی غمگین ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔سورہ عنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جن کو ملائکہ کی مدداوران کی بشارتیں ملتی ہیں۔پس یہاں یہ معنی ہوں گے کہ ملائکہ تمہاری مدد پر ہر وقت کمر بستہ ہیں لا تحزن اندرونی اور بیرونی دشمن کیسے کامیاب ہو سکتا ہے۔تم یہ غم نہ کرو یعنی دل میں یہ خیال نہ آئے کہ اسلام کہیں کمزور نہ ہو جائے، ناکام نہ ہو جائے۔اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ فرمایا ہے فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة : ۳۹) جو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت قرآنی کی اتباع کرتا ہے وہ کامیاب ہوتا ہے نا کامی کا منہ نہیں دیکھتا وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ تو فرما یالَا تَحْزَنُ جو ہم نے ہدایت نازل کی ہے تیری تو ساری زندگی ، سارے اخلاق ہی اس ہدایت کا عملی نمونہ ہیں یعنی تیری زندگی قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق ہے اس واسطے تجھے غمگین ہونے کی ضرورت نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو توغم کا سوال ہی نہیں دراصل ہمیں یہ سارے سبق دیئے جار ہے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَا يَحْزُنُكَ قَوْلُهُمْ إِنَّ الْعِزَّةَ لِلهِ جَمِيعًا (یونس: ۶۶) اسلام کے دشمن چاہتے ہیں کہ تجھے نا کام کریں اور ذلیل کر دیں لیکن تجھے اس یقین پر قائم کیا گیا ہے کہ عزت کا سر چشمہ اور منبع