انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 520 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 520

تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث ۵۲۰ سورة الانبياء بنی اسرائیل کی اصلاح اور ترقی میرے مد نظر ہے۔مجھے کسی اور قوم سے کیا غرض؟ اس لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کے لئے رحمت تھے۔اس میں کوئی شک نہیں لیکن عالمین کے لئے رحمت نہیں تھے۔خدا تعالیٰ کی ربوبیت کے مظہر تو تھے لیکن رب العالمین کی صفت کے مظہر نہیں تھے۔رب العالمین کی ربوبیت کا ملہ کا کامل مظہر وہ دل تھا جس پر ربّ العالمین کا جلوہ نازل ہوا اور اس نے اس پاک وجود کو رحمتہ للعالمین بنادیا۔آپ کا دل بنی نوع انسان کے لئے گداز ہوا۔آپ کا سارا ما حول عرب تھا لیکن آپ کا دل ہے کہ رحمتہ للعالمین کی موجوں سے لبریز تھا۔آپ نے جزیرہ نمائے عرب سے یہ اعلان کیا کہ کالے اور سفید میں کوئی فرق نہیں۔سرخ اور سفید میں کوئی فرق نہیں۔عرب اور عجم میں کوئی فرق نہیں ہے۔یہ جذبہ اور یہ انسانی قدر و منزلت رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ کا نتیجہ ہے۔یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام ( جو اپنی اپنی قوموں اور زمانوں کے لئے رحمت تھے ) ان کا نہ یہ جذبہ ہے اور نہ اُن کے بس کی یہ بات ہے۔پس خدا نے فرمایا۔میں ربّ العالمین ہوں اور خدا نے فرمایا کہ میرا محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین ہے۔خطابات ناصر جلد اول صفحه ۵۹۱۵۹۰) اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں میں مساوات کا ایک اور لحاظ سے بھی ذکر کیا ہے اور وہ ہے رحمت سے بہرہ یاب ہونے میں مساوات چنانچہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے : وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ - ترجمہ: اور ہم نے تجھے تمام دنیا کے لئے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کے دائرہ میں صرف مرد آئیں گے بلکہ کہا یہ ہے کہ ہم نے آپ کو تمام عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے دُنیا کی ہر چیز آپ کی رحمت سے حصہ لے رہی ہے۔آپ تمام انسانوں یعنی مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے رحمت بن کر آئے ہیں۔آپ کی رحمت مردوں اور عورتوں کو یکساں فیض پہنچارہی ہے یعنی آپ کی رحمت سے بہرہ یاب ہونے میں مردوں اور عورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔( خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۶۳۵) حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رحمتوں سے بھر پورا احسان جو ہے وہ صرف نوع انسانی پر نہیں