انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 514 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 514

۵۱۴ سورة الانبياء تغییر حضرت خلیفتہ امسح الثالث نہیں کیا جائے گا۔مؤحد اور مشرک میں کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔جہاں تک ان کی بہبود کا، جہاں تک ان کی عزت اور شرف کا، جہاں تک ان کے جذبات کا سوال ہے، کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔ساری اسلامی تعلیم اس بنیاد پر کھڑی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی نوع انسان کی طرف مبعوث ہوئے اور سارے بنی نوع انسان کو ان کا مقام بتایا اور وہاں لا کھڑا کیا اور کہا کہ یہ ہے تمہارا مقام اشرف المخلوقات ہونے کے لحاظ سے، بشیر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں۔اپنی اپنی استعداد کے مطابق تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرو اور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں عزت کے سامان پیدا کرو۔عزت کا جو یہ مقام نوع انسانی کو دیا گیا۔اور اخوت و مساوات کے یہ بندھن جن میں بنی نوع انسان کو باندھا گیا۔یہ اسلام کی پہلی بنیادی تعلیم ہے۔اس کے بعد پھر بیبیوں ہسینکڑوں اور باتیں مضمون کے اندر آتی جائیں گی۔لیکن اس وقت میں صرف ایک چیز کا ذکر کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ چونکہ سارے انسان برابر ہیں خدا تعالیٰ کی نگاہ میں اس لئے اسلامی تعلیم یہ اعلان کرتی ہے کہ زمین و آسمان کی ہرشے بلا استثناء ہر انسان کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہے۔قرآن کریم میں یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ زمین و آسمان کی ہر شے بلا استثناء ایک مسلمان کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہے اور غیر مسلم کی خدمت کے لئے پیدا نہیں کی گئی۔یہ اعلان کیا گیا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر شے بلا استثناء ہر انسان کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہے۔میں پہلے بھی سمجھا چکا ہوں اس کی وضاحت کے لئے یہاں بھی اب بتاؤں گا کہ جو قو تیں اور استعدادیں (جن کو انگریزی میں Faculties کہتے ہیں ) بھی انسان کو ملیں ، فرد فرد کو ملیں، مختلف شکلوں میں ملیں، فرق فرق سے ملیں، بہر حال وہ تمام قوتیں اور استعدادیں جو انسانی قوتیں اور استعداد میں کہلائی جاسکتی ہیں وہ اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں کہیں اور سے تو نہیں لا یا کوئی فرد اور خدا تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ وہ قو تیں اور استعد ایں جو اس نے کسی فرد واحد کو دی ہیں ان کی کامل نشوونما کے سامان پیدا کئے جائیں اور جس وقت ان کی کامل نشو ونما ہو جائے تو ان قوتوں اور صلاحیتوں کو اپنے کمال پر رکھنے کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہر فرد واحد کو مہیا ہوں۔۔۔۔۔ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔تمدُّ هَؤُلَاءِ وَ هَؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ (بنی اسرائیل: ۲۱) ہم بھی کو مدد دیتے ہیں دین والوں کو بھی دنیا والوں کو بھی۔وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبَّكَ مَحْظُورًا (بنی اسرائیل: ۲۱)