انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 507
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۰۷ سورة الانبياء پھر انسان ہے، بنی نوع انسان ان میں کافر بھی ہیں اور مومن بھی ہیں۔خدا تعالیٰ کی رحمانیت کا تعلق کافر سے بھی ہے اور اس کے جلوے کا فردیکھتا ہے اور اس کی رحمانیت کا تعلق مومن سے بھی ہے اور اس کے جلوے مومن دیکھتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ کی حیثیت سے رحمانیت کے بھی مظہر کامل ہیں۔چنانچہ اسلامی تعلیم ایک غیر مومن کے جو ابھی اسلام نہیں لا یا حقوق کو قائم بھی کرتی ہے اور ان کی حفاظت بھی کرتی ہے۔میں نے پہلے بھی کئی بار بتایا ہے کہ اس وقت کی مہذب دنیا کا مزدور اپنے حقوق کے حصول کے لئے جدو جہد تو کر رہا ہے لیکن اسے اپنے حقوق کا علم نہیں نہیں جانتا میراحق ہے کیا؟ یہ قرآنی ہدایت کا، محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا احسان ہے کہ آپ نے انسان کو بتایا کہ تیرا حق کیا ہے اور پھر تعلیم دی کہ یہ حقوق بہر حال ادا ہونے چاہئیں لیکن انسان صرف مزدور کی حیثیت میں تو اس دنیا میں زندگی نہیں گزارتا۔یہ ایک ایسا جاندار ہے جو گہرے جذبات رکھتا ہے۔چنانچہ انسان مومن ہو یا کا فراس کے جذبات کا خیال رکھا اور ان میں کوئی تفریق پیدا نہیں کی۔بعض دوسرے مذاہب نے بعض باتوں میں تفریق کی ہے لیکن اسلام نے انسان انسان میں کوئی تفریق پیدا نہیں کی۔جہاں تک انسانی جذبات کا تعلق ہے مومن اور کافر میں فرق نہیں۔انسانی جذبات برابر ہیں ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ اسے خواہ مخواہ طعن و تشنیع نہ کی جائے۔ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ بلاوجہ اس کے فضول القاب نہ رکھے جائیں، بڑے نام نہ رکھے جائیں۔خدا تعالیٰ نے یہ قید لگائے بغیر کہ وہ مسلمان ہے یا کافر یہ کہا کہ انسان کے بڑے بڑے نام نہیں رکھنے۔بڑے نام رکھنے سے اور طعن و تشنیع کرنے سے منع کیا۔خواہ کوئی مومن کے نام رکھے تب بھی بڑا اور اسلامی تعلیم کے خلاف اور کافر کے نام رکھے تب بھی بڑا اور بیسیوں مثالیں ہیں۔لَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُم اور لَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ (الحجرات : ۱۳) کے علاوہ فرمایا وَ اجْتَنِبُوا قَولَ النُّورِ (الحج: ۳۱) کہ جھوٹ نہیں بولنا۔یہ نہیں کہا کہ مسلمان کے خلاف جھوٹ نہیں بولنا بلکہ اسلام نے کہا کہ کسی کے خلاف بھی جھوٹ نہیں بولنا اور ہر ایک کے حق میں اور ہر ایک کے متعلق سچی بات کہنی ہے، جھوٹ ہرگز نہیں بولنا۔پھر اسلام نے کہا کہ وَمَنْ يَكْسِبُ خَطِيئَةً اَوْ اثْمًا ثُمَّ يَرُمِ بِهِ بَرِيًّا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا (النساء:۱۱۳) کسی انسان پر بہتان نہیں باندھنا۔اسلام نے یہ نہیں کہا کہ کسی مسلمان پر بہتان نہیں باندھنا بلکہ کہا کہ کسی انسان پر بہتان نہیں باندھنا۔انسان کے حقوق کی حفاظت کی کہ اس نے جو قصور نہیں کئے خواہ مخواہ اس پر بہتان لگا کر