انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 501 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 501

۵۰۱ سورة الانبياء تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث یہ اختیار دیا گیا ہے نا اور اسی وجہ سے اس کو ثواب ملتا ہے وہ سوچتا ہے کہ کون سا احسن طریق ہے اس حکم خداوندی پر عمل کرنے کا اس کے مطابق وہ عمل کرتا ہے تو الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَولَ جو بات کو سنتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت پھر جو سب سے بہتر عمل ہے اس کے نتیجہ میں فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ اس کے مطابق وہ عمل کرتے ہیں۔أُولَبِكَ الَّذِينَ هَل لهُمُ اللهُ یہ عمل اس واسطے احسن کر ر ہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے رہا ہے اپنے زور سے نہیں وہ کر سکتے۔ان کے اوپر احسن عمل کرنے کے لئے آسمانی ہدایت نازل ہوتی ہے اس شخص پر وَ أُولبِكَ هُمْ أُولُوا الْأَلْبَابِ اور حقیقی اور صحیح معنی میں یہی لوگ عظمند اُولُوا الالباب کہلا سکتے ہیں کیونکہ جس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل دی اس غرض کو وہ پورا کرنے والے ہیں۔(خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۴۶۲، ۴۶۳) وو آیت ۹۵ فَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصُّلِحَتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كَفَرَانَ لِسَعيِهِ وَإِنَّا لَهُ كُتُبُونَ اس پر اسلامی شریعت ایسی شریعت ہے کہ جو آدمی اس پر ایمان لاتا ہے اُسے یہ خطرہ لاحق نہیں ہوتا کہ پر ظلم ہوگا اور وہ گھاٹے اور نقصان میں رہے گا۔قرآن کریم نے مختلف پہلوؤں سے اس مضمون پر روشنی ڈالی ہے اور بڑے پیارے رنگ میں روشنی ڈالی ہے۔قرآن کریم نے ظلم کے متعلق تو یہ اعلان کر دیا: وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ (ق:۳۰) اور اس قسم کی اور بھی بہت سی آیات ہیں کہ اللہ تعالی کسی پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا۔تو اس سے انسان کی تسلی ہو گئی۔پھر فرمایا: - فَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصّلِحَتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفَرَانَ لِسَعيِهِ وَإِنَّا لَهُ كَتِبُونَ کہ جو ایمان لائے گا اور ایمان کے تقاضوں کو پورا کرے گا اور عمل صالح بجالائے گا نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ تو فَلَا كُفْرَانَ لِسَعُيِهِ۔اس کی کوشش اور اس کے عمل بوجہ انسان ہونے کے اگر ناقص رہ جائیں گے تب بھی رد نہیں کئے جائیں گے۔فلا كُفْرَانَ لِسَعیہ میں یہ نہیں فرمایا کہ تمہاری سعی قابل قبول ہوگی رد نہیں کی جائے گی بلکہ فرمایا کہ جو شخص اعمال صالحہ بجالائے گا اور وہ مومن ہوگا اور ایمان کے جملہ تقاضوں کو پورا کرے گا