انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 500 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 500

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة الانبياء آیت ٤٦ قُلْ إِنَّمَا انْذِرُكُم بِالوَحْي * وَلَا يَسْمَعُ الصُّةُ الدُّعَاءَ إذَا مَا يُنْذَرُونَ يَفْعَلُ مَا يَشَاء انسان ! انسان کا یہ فرض تھا۔انسان کی پیدائش کی یہ غرض اس کی زندگی کا یہ مقصد تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے محبت اور پیار کا ایک زندہ تعلق پیدا کرے۔اس کے لئے ایک تو وحی ، قانون قدرت کے مطابق وقتا فوقتا اللہ تعالیٰ کے نیک بندے آتے رہے۔انبیاء آئے جن پر شریعتیں نازل ہوئیں۔ایسے نبی پیدا ہوئے جنہوں نے يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ (المائدة: ۴۵) انہوں نے پہلی شریعت کے مطابق لوگوں کی ہدایت کے اور ان کی تربیت کے سامان پیدا کرنے کی کوشش کی اور پھر ایک کامل شریعت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور افراد اور نوع انسانی بحیثیت مجموعی خدا کے دربار میں داخل ہو، اس کے سامان پیدا ہونے شروع ہو گئے سورۃ انبیاء میں ہے۔قُلْ اِنَّمَا انْذِرُكُم بِالوحي (الانبیاء: ۴۶) جو میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ ان راہوں کو اختیار نہ کرو جو اللہ تعالیٰ سے دور لے جانے والی ہیں تو اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا۔وحی نازل ہوتی ہے کہ میں تمہیں کہوں کہ تم ان راہوں کو اختیار نہ کرو اور اس کے ساتھ وہ دوسرا پہلو بھی عربی کے محاورے قرآن کریم کے محاورے کے لحاظ سے آجاتا ہے اور میں ان راہوں کی نشاندہی کرتا ہوں جن پر چل کر تم خدا کے قرب کو حاصل کر سکتے ہو اور اس کے پیار کو پاسکتے ہو۔وَلَا يَسْمَعُ الصُّةُ الدُّعَاءِ إِذَا مَا يُنَذَرُونَ اور جب اس شخص کو جس کے کان کو ابھی حکم باری نہیں ملا کہ وہ وحی کی آواز کو سنے وہ نہیں سنتا۔جب وہ انذار ہو اس کو کہا بھی جائے، بتایا جائے ، نشان دہی کی جائے، عقل بھی ہے دوسرے ہوش و حواس بھی ہیں مگر خدا تعالیٰ کا حکم نہیں نازل ہوا تو یہ جو معنی میں کر رہا ہوں یہ اس آیت کے مطابق ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے دلوں پر ان کے اپنے اعمال کی وجہ سے میں نے مہر لگادی ہے لیکن وہ اپنا مستقل ایک مضمون ہے اپنے اپنے وقت پر بیان ہوتے رہتے ہیں۔پھر سورہ زمر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ (الزمر : ۱۹) پہلے تو یہ تھا نا سنتے نہیں۔اس میں یہ ہے کہ سنتے ہیں پھر ان کو اللہ تعالیٰ یہ بھی ہدایت دیتا ہے اس فرد واحد کو، آتا ہے کہ توسن اور سمجھ۔پھر وہ پوری طرح سمجھتا ہے تو ہر تعلیم کے متعلق بنیادی حکم یہ ہے کہ عمل صالح کرو جو موقعہ اور محل کے مطابق ہو۔بندے کو