انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 499 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 499

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۹۹ سورة الانبياء لیے اور یہودی دوڑے پھرتے تھے رؤسائے مکہ کو اکٹھا کرنے کے لیے تاکہ مٹادیا جائے اسلام کو۔اعلان کیا اللہ تعالیٰ نے کہ یہ تو درست ہے کہ تم بڑے انہماک کے ساتھ ، بڑے پیسے خرچ کر کے، اپنا آرام کھو کے سعی میں، کوشش میں اور دوڑ میں لگے ہوئے ہو کہ کسی طرح اسلام کو مٹایا جائے تمہیں کس نے یہ امان دی ہے کہ ان سفروں میں تمہیں تباہ کر دیا جائے گا۔میں نے بتا یا نا بڑی دوڑ دھوپ کے بعد ودرو جنگ احزاب کے حالات پیدا ہوئے اور اللہ جل شانہ کا یہ نشان (آیت) ظاہر ہوا۔سَيُهُزَمُ الْجَمْعُ وَيُولُونَ الدُّبُر (القمر : ۴۶) سارے اکٹھے ہو کر آئے تھے تباہ کرنے کے لیے، تباہ و برباد ہوکر چلے گئے وہاں سے۔اور انسان کے ہاتھ سے نہیں فرشتوں کے ہاتھ سے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَوْ يَأْخُذَهُم في تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِینَ تم اللہ تعالیٰ کو نا کام نہیں کر سکتے اس کے منصوبے میں۔اَوْ يَأْخُذَهُمُ على تخوف پنجابی میں کہتے ہیں بھورنا على تخوف کے بھی یہی معنی ہیں یا وہ انہیں آہستہ آہستہ گھٹا کر ہلاک کر دے ، یہ دونوں طرح ہوتا ہے یا آگے نسل کم ہو جائے یا نسل مسلمان ہو جائے ، ایک ایک کر کے ، وہ مکہ جس کے سپوت اسلام کو مٹانے کے لیے نکلتے تھے ان میں سے خالد بھی نکلا مگر اسلام کو مٹانے کے لیے نہیں اسلام کا جرنیل بننے کے لیے تو آہستہ آہستہ، آہستہ آہستہ ، بھور بھور کے ان کی طاقت کو خدا کم کرتا چلا گیا اور اسلام کی طاقت اللہ بڑھاتا چلا گیا۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرما یا آنا نَاتِي الْأَرْضَ تَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا اَفَهُمُ الْغَلِبُونَ ہم ان کے ملک کی طرف بڑھ رہے ہیں اور کناروں کی طرف سے اس کو چھوٹا کرتے جارہے ہیں۔وہ اپنی تدبیر میں کامیاب کیسے ہونگے ہر دوکو اکٹھا کر کے ایک گلدستہ جس طرح بن جاتا ہے بہت خوبصورت کہ اَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوف یا ده انہیں آہستہ آہستہ گھٹا کر ہلاک کر دے۔اور یہ سارا کچھ کیوں کرے؟ اس لیے کہ جو تمہارا رب ہے وہ مومنوں پر بہت ہی شفقت کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے جن مومنوں نے خدا تعالیٰ پر توکل کیا ان کے ساتھ یہ اس کا سلوک ہے اور وہ رب ہے ربوبیت کرتا ہے اور ربوبیت کے لیے دو چیزوں کی ضرورت تھی۔اس کی شفقت کی اور اس کے رحم کی تم نے دیکھا نہیں کن عظیم مظاہروں کے ساتھ اس نے اپنی شفقت کا، اپنے پیار کا بھی اظہار کیا اور اپنی رحمتوں کی بارش بھی کی مسلمانوں پر۔(خطابات ناصر جلد نهم صفحه ۳۰۶،۳۰۵)