انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 498
۴۹۸ سورة الانبياء تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث بھی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی جو ہمارے ساتھ رہا ہے۔اس کا ہمارے ساتھ جو سلوک ۱۹۱۴ء میں تھا یا جو ۱۹۱۵ء میں تھا وہی سلوک آج بھی ہے۔اگر ہمارے عقائد بدل جاتے تو خدا تعالیٰ کا ہمارے ساتھ سلوک بھی بدل جاتا کیونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ إِنَّ اللهَ لَا يُخَيَّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمُ (الرعد: ۱۲) خدا تعالیٰ کا یہ سلوک ہر قوم کے ساتھ چلتا ہے اور خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت یہ بتا رہی ہے کہ ہمارے جو عقائد ہیں وہ اس کو محبوب اور پیارے ہیں اور وہ ایسے عقائد ہیں جو اس کی جماعت کے ہونے چاہئیں تبھی تو وہ ہمیں ترقی دیتا چلا جاتا ہے اور تبھی تو ہم نے یہ دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی ان صفات کے تمام جلوے آپ کے لئے اے جماعت غیر مبائعین جلوہ گر ہوئے جو اس جماعت کے لئے جلوہ گر ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ تنزل کی طرف لے جارہا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا ہر وہ جلوہ ہم پر ظاہر ہوا جو اس جماعت پر ظاہر ہوتا ہےجس کو وہ ترقی کی منازل پر چڑھا تا چلا جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے عقائد نہ بدلے اور نہ غلط ہوئے اور خدا تعالی کی نگاہ میں پیارے ہیں۔انہی عقائد کے ساتھ ہم نے ترقی کی ہے اور آپ نے انہی عقائد کو چھوڑ کر تنزل کی راہوں کو اختیار کیا ہے۔آج آپ کا یہ حال ہے کہ آپ کا حالیہ جلسہ سالانہ جو دسمبر ۱۹۶۶ ء میں ہوا۔اس میں آپ کی جو زیادہ سے زیادہ تعداد تھی اس سے سولہ گنازیادہ غیر ممالک میں ایک سال کے اندر جماعت احمدیہ کی نئی بیعتیں ہوئی ہیں اور آپ کے جلسہ سالانہ کی جو کم سے کم تعداد تھی اس سے پچاس گنا زیادہ غیر ممالک میں ایک سال کے اندر جماعت احمدیہ کی نئی بیعتیں ہوئی ہیں، تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہم کمزور انسانوں کو ہمارا بڑائی کا کوئی دعویٰ نہیں نہ ہم کسی طاقت کا دعوی کرتے ہیں نہ ہم کسی علم کا دعویٰ کرتے ہیں اور نہ ہم کسی تقوی کا دعویٰ کرتے ہیں ہم تو کچھ بھی نہیں لیکن خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت یہ بتارہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے نازل ہوتے ہماری باہوں کو پکڑتے اور ہمیں ان بلندیوں تک پہنچاتے چلے جارہے ہیں جہاں تک ہم اپنی طاقت کے بل بوتے پر نہیں پہنچ سکتے تھے۔( خطابات ناصر جلد اول صفحه ۹۳ تا ۹۵) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَوْ يَأْخُذَهُم فِي تَقَلبِهِم کہ وہ دوڑے پھرتے ہیں۔یہ جو جنگ احزاب ہوئی ، یہ سفروں کے نتیجے میں ہوئی۔رؤسائے مکہ دوڑے پھرتے تھے عرب قبائل کو اکٹھا کرنے کے