انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 497
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۹۷ سورة الانبياء سلسلہ جو اپنے آپ کو الہی سلسلہ کہتا ہے واقع میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس کے مقابلہ میں تدریجی تنزل اس بات کی دلیل ہے کہ جس گروہ یا سلسلہ کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ حکم نازل ہو گیا کہ اس کو تدریجی تنزل کی طرف لیتے چلے جاؤ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوسکتا۔وہ غلطی پر قائم ہے۔اس اصول کے مد نظر جب ہم اپنے ماضی پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ ایک دن آپ ( مولوی محمد علی صاحب۔ناقل ) نے قادیان کی مبارک بستی کو جہاں وہ مقامات تھے جن کو خدا تعالیٰ نے شعائر اللہ کہا ہے جہاں وہ مٹی تھی جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے قدم پڑے تھے جس کی سرزمین وہ سرزمین تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے ارضِ حرم قرار دیا تھا آپ نے چھوڑا۔اس زمین سے آپ نکلے تو آ۔خوش تھے کہ آپ خدا تعالیٰ کے مسیح کے گاؤں اور اس کے شہر کو سونا چھوڑ کر جا رہے ہیں۔آپ نے اس وقت یہ دعوی کیا تھا کہ سو میں سے ننانوے احمدی آپ کے ساتھ ہیں اور سو میں سے ایک آدمی آپ پیچھے چھوڑ کر جارہے ہیں۔آپ نے اس وقت ایسے سامان پیدا کر دیئے تھے کہ خزانہ اس وقت خالی تھا۔اس میں شاید چند آنے تھے گویا اس سونے گھر کو آباد کرنے کا بھی آپ نے اپنے زعم میں کوئی ذریعہ نہیں چھوڑا تھا اور آپ میں سے بعض نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ قادیان کے تعلیمی اداروں پر عیسائیت کا قبضہ ہوگا اور اس کے مکانوں میں اُلو بولیں گے مگر خدا تعالیٰ نے یہی فیصلہ کیا کہ وہ ان لوگوں کو جو اس کی نگاہ میں حقیقی انسان نہیں تھے قادیان میں نہیں رہنے دے گا اور وہ دن اور آج کا دن اللہ تعالیٰ نے جو سورج ہم پر چڑھا یا وہ ایک زیادہ طاقتور، ایک زیادہ منظم اور تعداد میں زیادہ جماعت کے اوپر چڑھا اور ہر سورج جو آپ پر چڑھا اس نے آپ کے کان میں یہ سرگوشی کی کہ تمہارا قدم تنزل کی طرف آیا ہے اور تم تنزل کے گڑھوں کی طرف جارہے ہو۔اس وقت آپ کی جماعت (آپ کے کہنے کے مطابق) سو میں سے نا نوے تھی اور آج اگر میں ایک کو نہ پھاڑوں تو میں اس نسبت کو بیان ہی نہیں کر سکتا جو آپ کی جماعت کو ہماری جماعت کے مقابلہ میں ہے۔آپ ہمارے مقابلہ میں سو میں سے ایک بھی نہیں رہے۔یہ پاک نفوس جو آج میرے سامنے بیٹھے ہیں یا عورتوں کے جلسہ گاہ میں جو پاک ہستیاں بیٹھی ہیں ان میں سے ہر ایک اس بات پر گواہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت یہ بتا رہی ہے کہ ہمارے عقائد میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی اس لئے کہ ۱۹۱۴ ء سے لے کر آج تک خدا تعالیٰ کے اس سلوک میں