انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 496 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 496

۴۹۶ سورة الانبياء تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث کہ اس ترقی یافتہ زمانے میں ساری دنیا کے کھاد کے کارخانوں میں تیار ہونے والی مصنوعی کھاد مجموعی طور پر اس کا کھر بواں حصہ بھی نہیں بلکہ صحیح جزو بتانے کیلئے شاید ہمارے اعداد وشمار ختم ہو جا ئیں۔اس سلسلہ میں باتوں باتوں میں ایک نئی تحقیق میرے ذہن میں آ گئی ہے وہ بھی میں بتادیتا ہوں۔سائنس نے یہ دریافت کیا ہے کہ جب بادل آتے ہیں اور بجلی چمکتی ہے ایک تو گرج کی آواز ہے جو بعض لوگوں کو ڈرا دیتی ہے اور بعض کو اللہ تعالیٰ کی حمد پر مجبور کر دیتی ہے۔چنانچہ بادلوں میں چمکنے والی یہ بجلی نصف گھنٹے میں اتنی مصنوعی کھاد پیدا کر دیتی ہے جس کو ساری دنیا کے کارخانے ایک دن یا شاید ایک سال میں جا کر بھی تیار نہیں کر سکتے۔بہر حال سورج اور چاند کے ساتھ زمین کا تعلق جس حد تک ہماری سائنس نے ہمیں بتایا ہے وہ ایک ظاہر و باہر حقیقت ہے۔سورج کے ساتھ زمین کے تعلق کی ایک چھوٹی سی مثال میں نے ابھی دی ہے اب چاند کے زمین کے ساتھ تعلق کی بھی مثال دے دیتا ہوں جو چھوٹے بچوں کیلئے دلچسپی کا موجب بھی ہوگی۔چاندنی راتوں میں یہ لمبی سی تر یعنی لکڑی اس رفتار سے بڑھ رہی ہوتی ہے کہ اس کی آواز انسان اپنے کانوں سے سُن سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ چاند کی روشنی پھلوں کو فربہی بخشتی ہے اور پھر بھی چاند میں سے کوئی چیز کم نہیں ہوئی۔یہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور اس کی گونا گوں صفات کے جلوے ہیں جو سورج اور چاند کے زمین کے ساتھ تعلقات میں ہمیں یہاں اور وہاں نظر آتے ہیں۔یہ ہے وہ زمین جسے قرآن کریم نے الارض کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۸۳۶ تا ۸۳۸) دوووط آیت ۴۵ بَلْ مَتَّعْنَا هَؤُلَاءِ وَابَاءَهُم حَتَّى طَالَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ۔أفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ تَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغَلِبُونَ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اَفَلَا يَرَوْنَ اَنَا نَاتِي الْأَرْضَ تَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا اَفَهُمُ الغَلِبُونَ۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک اصول دو شکلوں میں ہمارے سامنے پیش کیا ہے اور اول یہ کہ جس قوم اور سلسلہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک ہو کہ وہ اُسے درجہ بدرجہ ترقی کی منازل طے کراتا چلا جائے وہ اس کی طرف سے ہوتا ہے۔تدریجی ترقی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ گروہ یا وہ