انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 495
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۴۹۵ سورة الانبياء کہ ایک پہلے قرعہ میں نکل آئے اور اسی طرح ۱۰۰ / ۱ چانس یا ۱/۱۰۰۰ چانس یہ ہے کہ دوسری اور تیسری بار بھی ایک نکلے۔علی ہذا القیاس۔وہ لکھتا ہے کہ زمین اور اس پر انسان کا وجود، انسانی حیات کا امکان اور بقا اور ارتقا کی سہولتیں یہ اتنی چیزوں سے وابستہ ہیں کہ ہر چیز کو اور اس لمبے سلسلے کو Chance یعنی اتفاق کہہ کر نہیں ٹالا جا سکتا اس کے لئے کوئی جائز وجہ ہونی چاہیے جس کو ہماری عقل بھی تسلیم کرے۔پھر اس نے آگے Chances (اتفاقات ) گنوانے شروع کئے۔وہ لکھتا ہے اگر زمین سورج سے اتنے فاصلے پر نہ ہوتی جتنے فاصلے پر اب ہے تو اگر اس فاصلے سے قریب ہوتی تو دنیا کی ہر چیز کوئلہ بن جاتی اور اگر تھوڑی سی دُور ہوتی تو ہر چیز یخ بستہ ہو کر رہ جاتی۔اسی طرح چاند زمین سے ایک خاص فاصلے پر ہے۔وہ لکھتا ہے کہ اگر چاند زمین سے ایک نیزے کے برابر بھی قریب ہوتا تو سمندر کے جوار بھاٹے کی لہریں کوہ ہمالیہ کی چوٹیوں تک پہنچ جاتیں مگر چاند کے زمین سے ایک خاص فاصلے پر ہونے کی وجہ سے سمندر کی لہریں اعتدال پر رہتی ہیں۔چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ آخر یہ لہر میں اعتدال پر کیوں رہتی ہیں۔ان میں زبردست جوار بھاٹا کیوں نہیں اُٹھتا۔اتفاق ہر چیز اتفاق۔سورج سے زمین کا فاصلہ اتفاق ، چاند سے زمین کا فاصلہ اتفاق ، سورج کے گردزمین کا ایک خاص زاویہ اور محور پر ایک خاص رفتار سے گھومنا اتفاق ، کہاں تک اتفاق، اتفاق کہتے چلے جاؤ گے۔تمہیں ماننا پڑے گا کہ ان عالمین کے پیچھے ایک بالا رادہ ہستی ہے جس نے یہ ساری مخلوق پیدا کی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے اس آیہ کریمہ میں یہ بتایا ہے کہ دن اور رات جو تمہارے سامنے ہیں اور وہ تمہاری زندگی اور اس کی بقا اور ارتقا کا سامان بہم پہنچارہے ہیں یہ بتارہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں زندہ رکھنا چاہتا ہے اور یہ زمین جس پر تم زندگی گزارتے ہو اس میں یہ خصوصیت ہے کہ سورج سے ایک معین فاصلے پر واقع ہے، چاند سے اس کا ایک خاص اور موزوں فاصلہ ہے، سورج کے گردگھومنے کے لئے ایک خاص محور مقرر ہے اور ایک معین اور مقرر اندازے کے مطابق گردش کر رہی ہے وغیرہ حقائق پر مشتمل یہ حکیمانہ نظام دراصل ایک بالا رادہ ہستی کے وجود کی دلیل نہیں تو اور کیا ہے۔غرض ان حقائق کے نتیجہ میں ہمارے یہ دن اور یہ راتیں وجود پذیر ہوتی ہیں۔فرمایا یہ وہ زمین ہے جس کے یہ دن اور یہ راتیں ہیں۔ان کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بے شمار تجلیات جلوہ فگن ہیں۔پھر سورج اور چاند کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ اس زمین کا ایک خاص تعلق سورج اور چاند دونوں کے ساتھ ہے۔مثلاً سورج زمین کو اتنی کھا دے رہا ہے