انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 493 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 493

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۹۳ سورة الانبياء پابندیاں ہم نے عائد کی ہوئی ہیں انہیں مت بھولنا پھر وہ اس مال کے متعلق انہیں یہ فرماتا ہے کہ اب میرے دین کو یا میرے بندوں کو تمہارے مال کے ایک حصہ کی ضرورت ہے اسے میری راہ میں خرچ کرد و تو یقینا یہ اس بندے کی آزمائش ہوتی ہے جس میں وہ ڈالا جاتا ہے۔پس وہ مومن جو تقوی پر قائم ہوتا ہے وہ بشاشت سے خدا تعالیٰ کی اس آواز پر لبیک کہتا ہے اور اپنے مال کو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر کے وہ اس امتحان میں پورا اُترتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بہت سی نعمتوں میں سے جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں تمہاری زندگی کے لمحات بھی ہیں، عمر بھی ہے، جب ہماری طرف سے اپنی عمر اور وقت کا کچھ حصہ قربانی کرنے کیلئے تمہیں آواز دی جائے تو تمہارا فرض ہے کہ تم اس آزمائش میں بھی پورے اتر وتا ہمارے فضلوں کے وارث ٹھہرو۔اسی طرح عرب تیں اور وجاہتیں بھی خدا تعالیٰ کی ہی دی ہوئی ہیں جو ایک مومن کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنی پڑتی ہیں۔خدا تعالیٰ کے احکام میں ایک حصہ نواہی کا ہے یعنی بعض باتیں ایسی ہیں جن سے وہ روکتا ہے مثلاً دنیوی رسم و رواج ہیں جن کی وجہ سے بعض لوگ اپنی استطاعت سے زیادہ بچوں کی بیاہ شادی پر خرچ کر دیتے ہیں حالانکہ وہ اسراف ہے جس سے اللہ تعالیٰ منع فرماتا ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے رسم و رواج کو پورا کرنے کے لئے خرچ نہ کیا ہمارے رشتہ داروں میں ہماری ناک کٹ جائے گی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری خاطر رسم و رواج کو چھوڑ کر اپنی ناک کٹواؤ تب تمہیں میری طرف سے عزت کی ناک عطا کی جائے گی۔توالخیر جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ مومنوں کو آزماتا ہے۔وہ قرآن کریم کے احکام ہیں۔اس کے مقابلہ میں الشیر کا لفظ استعمال فرمایا ہے گویا ہر وہ حکم امر ہو یا نہی جو قرآن کریم کے مخالف اور معارض ہو۔اسے السر کہا گیا ہے کیونکہ شیطان اور اس کے پیروؤں کا یہ کام ہے کہ وہ لوگوں کے کانوں میں قرآن کریم کے خلاف باتیں ڈالتے رہتے ہیں۔کبھی یہ کہتے ہیں کہ خدا کی راہ میں مال خرچ کرنے کا کیا فائدہ؟ کبھی یہ کہتے ہیں کہ ان مومنوں کی خاطر جو کمزور اور غریب مہاجر ہیں تم اپنے وقتوں اور عزتوں کو کیوں ضائع کرتے ہو۔دیکھ لیں منافقوں کا وطیرہ اور کفار کا یہی طریق ہے کہ وہ قرآنی احکام کے مقابل معارض باتیں مومنوں کے کانوں میں ڈالتے ہیں اور یہ غلط امیدرکھتے ہیں کہ