انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 489
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطن ۴۸۹ سورة الانبياء بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الانبياء آیت ۳۱ اَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّبُوتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيْ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ ) پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمین وہ ہے کہ جس کے اندر جَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيْ کہ جس میں ہم نے ایک ایسا پانی پیدا کیا ہے جس پر حیات کا مدار ہے یعنی ہر دنیوی مخلوق کی زندگی کا انحصار پانی پر ہے یہ زندگی شجر کی ہے تب بھی اور اگر حجر کی ہے تب بھی اس کا مدار پانی پر ہے۔پتھروں کے ذرّے آپس میں نمی کی وجہ سے مل کر ٹھوس شکل میں نظر آتے ہیں اگر ان میں نمی نہ ہو تو یہ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔یہ ہیرا ہیرا نہ رہے۔غرض یہ اللہ تعالیٰ کا جلوہ ہے جس کی بدولت دنیا کی ہر چیز حیات پاتی ہے۔ورنہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی وجہ سے یہ جلوہ معرض تعطل میں پڑ جائے تو پانی کے بند ہو جانے سے اجزائے عناصر میں ایسا انتشار پیدا ہو جائے کہ جس سے زندگی اور بقا ممکن ہی نہ رہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمین وہ ہے جس میں الماء جاری کیا۔خالی ماء نہیں فرمایا بلکہ الباء کہہ کر اس طرف اشارہ فرمایا کہ یہ پانی اپنے اجزا کے لحاظ سے وہ مخصوص پانی ہے جس پر حیات اور اس کی بقا کا مدار ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمین صرف وہ نہیں جس میں ہم نے پانی پیدا کیا ہے بلکہ زمین وہ ہے جس میں ہم نے پانی کی مناسب تقسیم کا سامان بھی پیدا کیا ہے اور زمین کو Pollute ( گندہ) ہونے سے محفوظ رکھنے کے سامان پیدا کر دیئے۔صاف پانی اور گندے پانی کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی۔اگر چہ وہ نظر نہیں آتی لیکن در حقیقت صاف اور گندے پانی کے درمیان ایک دیوار یا حد فاصل قائم ہے۔پس قرآن کریم کی رُو سے اللہ تعالیٰ نے زمین کی تعریف یہ بھی کی ہے کہ