انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 485
۴۸۵ سورة طه تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اور یہ بھی ہمیں بتا یا اللہ تعالیٰ نے کہ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ( يه سورة بقره کی ۲۵۶ ویں آیت کا ایک ٹکڑا ہے ) اس سے پہلے اس آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ جو کچھ انسان کے سامنے ہے اور جو کچھ انسان کے پیچھے ہے یعنی جو کچھ اس کے علم میں ہے اور جو کچھ وہ اپنے عدم علم کی وجہ سے جانتا نہیں ، جاہل ہے اُس سے، وہ سب کچھ ہی اللہ تعالیٰ جانتا ہے یعنی جو کچھ بھی ہے خواہ وہ انسان جانتا ہو یا نہ جانتا ہو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ الا بما شاء اللہ تعالیٰ کا ئنات کو پیدا کرنے والا ، کائنات کی کنہ کو جاننے والا ہے اور اس کی مرضی کے سوا اس کے علم کے کسی حصہ کو بھی کوئی شخص پانہیں سکتا۔تو ہر علم میں جو زیادتی ہوتی ہے وہ خدا تعالیٰ کی منشا اور مرضی کے مطابق ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایک دہر یہ سائنس دان جب کوئی Problem حل کر رہا ہو یا اپنا کوئی فارمولا بنارہا ہو اور اس کو سمجھ نہ آ رہی ہو، دماغ میں اندھیرا ہو اور ایک تڑپ اس کے اندر پیدا ہوتی ہے کہ کہیں سے مجھے روشنی ملے ، تو وہ تڑپ ایک غافل کی دعا کی مانند ہے اور اللہ تعالیٰ ایسا ہی سمجھتا اور اس کے دماغ میں روشنی پیدا کر دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس جگہ کسی آیت کا حوالہ نہیں دیا۔ابھی میں نے جو کہا تھا نا کہ کسی آیت کا حوالہ آپ دیں کہ وہ ہے کسی نہ کسی آیت کی تفسیر۔پہلے میرے دماغ میں یہ بات دوردر نہیں تھی تب آپ سے باتیں کرتے ہوئے یہ آیت آ گئی سامنے ، وہی مثال اس کی کہ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمة إِلَّا بِمَا شَاء۔اس کی تفسیر کرتے ہوئے آپ نے وہ لکھا ہے کہ کوئی دہریہ، کوئی کمیونسٹ، کوئی بت پرست کوئی بد مذہب علم کے میدان میں ترقی کرتے ہوئے جب ترقی کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کی منشا کے مطابق ترقی کرتا ہے اس کی منشا کے بغیر ترقی نہیں کرتا اور انسان اللہ تعالیٰ کی مرضی کے سوا اُس کے علم کے کسی حصہ کو بھی پانہیں سکتا۔اور اس سے اگلا ٹکڑا آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم آسمانوں پر بھی اور زمین پر بھی حاوی ہے۔کائنات کا اس کے علم نے احاطہ کیا ہوا ہے وہ اس کا پیدا کرنے والا ہے اس کے اندر جو کچھ بھی خواص پائے جاتے ہیں، جو کچھ خواص میں کمی ہوتی ہے، جو بڑھوتی ہوتی ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اس کے امر سے یا اس کے خلق سے وہ چیز ہورہی ہے۔وہ اس سے پوشیدہ اور چھپی ہوئی نہیں۔وہ انسانوں کی طرح نہیں کہ آج یاد کر لیا یا سن لیا اور کل کو بھول گیا خدا نہ کرے آپ میں سے بعض بھول ہی جائیں کہ میں آپ کو کیا نصیحت یہاں کر کے