انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 41 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 41

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۱ سورة المائدة ہیں لیکن جن کی زبان ایمان کا اقرار کرتی ہے ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کے متعلق اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔جن کے دل ایمان سے خالی تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لیکن زبان سے ایمان کا اقرار تھا وہ پھر دو گروہوں میں تقسیم تھے ایک وہ جن کے متعلق یہ امید کی جاسکتی تھی کہ ایک وقت میں ان کے دلوں میں نور ایمان داخل ہو کر ان کی روح کو اور ان کے دل کو اور ان کے جسم کو اور ان کے خیالات اور جذبات کو اور ان کی تمام استعدادوں کو منور کر دے گا لیکن ایک وہ تھے جن کے متعلق اس قسم کی امیدان کی ظاہری حالت کو دیکھ کر نہیں رکھی جاسکتی تھی اور انہی کا ذکر اس آیہ کریمہ میں کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں میں سے وہ بھی ہیں کہ جو يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ کفر کی اور فتنہ کی اور فسوق کی باتیں سننے کی طرف بڑی جلدی مائل ہو جاتے ہیں اور اس قسم کی فاسقانہ باتیں پھیلانے کا میلان ان کی طبیعتوں میں ہے اور ان کے اعمال بھی کفر کی ملونی کی وجہ سے کافرانہ اعمال ہی کہلائے جاسکتے ہیں۔ایمان کے امتحان کے وقت مضبوط دل والا تو ایمان کی پختگی کا مظاہرہ کرتا ہے لیکن یہ لوگ اپنے ایمان کی کمزوری کا اور کفر کی آمیزش کا مظاہرہ کرتے ہیں اور فوراً اس قسم کے بد اعمال کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يُسَارِعُونَ فِي الكفر کا گروہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا جو کفر کی باتیں سنتے اور کفر کی باتوں کے پھیلانے اور کفر کی بداعمالیوں کی طرف سرعت سے متوجہ ہونے میں سب سے آگے تھا اس کی طبیعت کا میلان ہی اس طرف تھا۔پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی اس قسم کے لوگ پائے جاتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہی فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کا مقصد چونکہ اسلام کو اور اُمت مسلمہ کو کمزور کر دینا ہوتا ہے اس لئے ان لوگوں کا تعلق ان غیر مسلموں کے ساتھ رہتا ہے جو اسلام کے بظاہر نزدیک آتے تھے، باتیں سنتے تھے مسلمانوں کی مجلسوں میں بیٹھتے تھے لیکن خلوص نیت کے ساتھ نہیں بلکہ بدنیتی کے ساتھ اور دو مقصد ان کے پیش نظر ہوتے۔ایک تو اس قسم کے کمزور ایمان والوں سے تعلق پیدا کر کے جھوٹی باتوں کو وہ سنتے اور اخذ کرتے تھے۔پھر غیر مسلموں میں جا کے یہ کہتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے مصلح لوگوں نے یوں کہا کیونکہ ان لوگوں کے متعلق قرآن کریم یہی کہتا ہے کہ