انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 481
۴۸۱ سورة طه تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث میں سے ایسی نہیں کہ جس کے متعلق انسان کسی وقت بھی اپنی علمی تحقیق میں آگے بڑھتے بڑھتے کسی موقعے پہ بھی یہ کہہ سکے کہ اس چیز میں جتنے خواص تھے وہ میں نے حاصل کر لئے اور اب اس چیز کے متعلق اب میرا اعلم کامل ہو گیا ہے اس سے زیادہ نہیں ہو سکتا آپ نے فرمایا ہے کہ شخص کا دانہ بڑی چھوٹی سی چیز ہے اس کے متعلق بھی انسان کا علم اپنی انتہا کو نہیں پہنچ سکتا۔اس زمانہ میں رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا کے ساتھ ایک اور دعا بھی ہمیں سکھائی گئی اور وہ ہے رَبّ آرنی حَقَائِقَ الْأَشْيَاء (التذکرہ : صفحہ ۶۱۳ جدید ایڈیشن) وہ اسی کی رَبّ زِدْنِي عِلما کی تفسیر کے طور پر ہے رَبَّ أَرِنِي حَقَائِقَ الْأَشْيَاءِ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کے ذریعے دعا سکھلائی اس لئے کہ یہ زمانہ کچھ عجیب سا بن گیا ہے علم علم کے لحاظ سے، جو تو ٹھوس علوم ہیں سائنسز ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ بہت کچھ حقیقتیں معلوم ہو جاتی ہیں ان میں بھی حقیقتیں معلوم نہیں ہوتیں اور انسان جتنا اپنے علم میں ہر سال اضافہ کرتا ہے اتنا ہی اس کی غلطیاں جو اس نے پہلے سالوں میں کی ہوتی ہیں وہ آشکار ہو کے اس کے سامنے آ جاتی ہیں یعنی جن کو وہ حقائق سمجھتارہا تھا وہ حقیقت نہیں رہتی باقی۔سینکڑوں مثالیں ہمارے سامنے آتی ہیں، کئی میں پہلے بتا بھی چکا ہوں ایک نئی چیز یہ آئی سامنے، کہ ۱۹۷۵ء میں جب میں بیمار ہوا اور انگلستان گیا چیک اپ کروانے کے لئے تو وہاں کے چوٹی کے ماہر نے مجھے یہ مشورہ دیا، ( مجھے تھوڑی سی تکلیف ذیا بیطس کی بھی ہے تو انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ ڈیاو نیز یہ اس کی ایک دوا ہے وہ مجھے موافق آئی ہوئی تھی وہ زیادہ خوراک میں کھانے کی بجائے ، ۲۵۰ mg کھانے کی بجائے ۱۰۰ mg لیں اور ایک اور دوائی وہ نہار کھانی پڑتی ہے ناشتے کے بعد ڈائیوٹین ایک اور دوائی ہے وہ ۵۰۰ mg کی لے لیا کریں اور اس کی زیادہ کھانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔خیر وہ انگلستان کے چوٹی کے ماہر کا مشورہ تھا میں نے اس پر عمل کرنا شروع کر دیا یہ ۱۹۷۵ ء کی بات ہے اور ۱۹۷۷ء یعنی اس کو سمجھو دوسرا سال ہوا تھا کہ وہاں سے مجھے خط آنے شروع ہوئے کہ نئی تحقیق یہ ہے کہ ڈائیوٹین جو انہوں نے مشورہ دیا تھا کہ ناشتے کے بعد کھاؤ اور بہت اچھی دوائی ہے وہ زہر ثابت ہوئی ہے فوراً چھوڑ دیں کیونکہ اس سے موتیں واقع ہونا شروع ہوگئی ہیں۔تو یہ کہنا مشکل ہے کہ آج کا سائنسدان نئی ایجادات زیادہ کرتا ہے، یا اس کے علم میں یہ اضافہ زیادہ ہوتا ہے کہ جو پہلی تحقیقات میں اس نے سچ سمجھا تھا وہ سچ نہیں بلکہ غلط بات ہے،حق نہیں بلکہ