انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 480 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 480

تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۴۸۰ سورة طه نہیں۔ڈاکٹر کی تشخیص بھی صحیح اس کا نسخہ بھی صحیح اس کے اجزا بھی درست اس کے بیچ میں ملاوٹ نہیں چاک کی اور وہ کھا رہا ہے اس کو آرام نہیں آ رہا اور دس پندرہ دن ، ہیں دن گذر گئے پھر خدا تعالیٰ کے کسی بندے کی دعا یا اس کی اپنی دعا یا خدا تعالیٰ اگر اس کو آزمائش میں ڈال رہا تھا تو خدا نے فیصلہ کیا کہ اب میں اس کو آزمائش سے نکالتا ہوں زبانِ حال کی دعا اس کو ہم کہتے ہیں۔اس کو اس نے سناء وہی بیمار ، وہی بیماری ، وہی دوا کھائی اس نے اور اس کو آرام آ گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ پہلے دو حکم نازل ہوئے جب آرام نہیں آرہا تھا ایک دوا کو کہ اثر نہ کرو۔ایک جسم کے اجزا کو کہ قبول نہ کرو اور جب خدا نے فیصلہ کیا کہ اب اس کو شفا دینی ہے تو دو نئے حکم نازل ہوئے۔دوا کو کہا اثر کر اور جسم کے کیمیاوی اجزا کو کہا کہ اس دوا کے اثر کو قبول کر۔یہ قانونِ قدرت کا حصہ نہیں ہے۔یہ امر کے اندر آتا ہے یعنی ہر واقعہ یا ہر تبدیلی جو ہوتی ہے اس کا ئنات میں وہ آسمان سے ایک حکم اترتا ہے تب ہوتی ہے۔بے شمار حکم ایک گھنٹے کے اندر اتر رہے ہیں کائنات میں۔اللہ تعالیٰ ہماری زبان سے تو نہیں بولتا کہ مختصر زبان میں یہاں بول رہا ہوں۔کسی اور جگہ بات ہی نہیں کر سکتا۔میرے لئے ممکن نہیں۔خدا تعالیٰ کا تو کائنات کے ہر ذرے پر کلام نازل ہوتا ہے۔اس کا امر جو ہے وہ نازل ہوتا ہے اور وہ اپنی مرضی کے مطابق متصرف بالا رادہ ہے۔ہر چیز میں تصرف اپنے ارادہ سے جیسے چاہتا ہے اس کے مطابق وہ کرتا ہے۔(خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۴۶۱، ۴۶۲) آیت ۱۱۵ فَتَعلَى اللهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أن يُقْضَى إِلَيْكَ وَحِيةَ وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا میں کتابیں پڑھنے والوں کے متعلق اور کتابیں لکھنے والوں کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ہمیں یہ دعا سکھائی گئی ہے رَبّ زِدْنِي عِلْمًا۔اے ہمارے رب ! ہمارے علم میں ہمیشہ زیادتی کرتا چلا جا۔ایک طرف یہ اعلان ہے کہ انسان جتنی بھی نئی سے نئی تحقیق کرتا چلا جائے علم کے مختلف میدانوں میں کبھی وہ ان میدانوں کی انتہا تک نہیں پہنچ سکتا۔اور دوسری طرف یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو مخلوق ہے اس کی خواص غیر محدود ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ کی ساری صفات اس کائنات پر ہر آن اثر انداز ہو رہی ہیں اس لئے کوئی چیز بھی خدا کی بنائی ہوئی چیزوں