انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 479
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۷۹ سورة طه ماننا پڑتا ہے کہ درست کہہ رہے ہیں آپ کہ ہمارے اندر یہ خامیاں آگئی ہیں۔مثلاً قرآن کریم نے دکھ دور کرنے تھے نا۔اعلان کیا کہ تمہارے دکھ دور کرنے کے لئے یہ ضروری تھا کہ انسان میں معاف کرنے کا خُلق ہو یعنی وہ موقع اور محل پر معاف کرنا جانتا ہو۔۔۔۔۔۔ما انْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى قرآن کریم دُکھوں کو دُور کرنے کے لئے آیا ہے دُکھ پہنچانے کے لئے نہیں آیا۔اس واسطے اس بنیاد پر کھڑے ہو کے علوم سیکھیں اور دنیوی علوم میں بھی دنیا والوں سے آگے نکل کے بتائیں تب وہ عظمت جو قرآن کریم کی ہے اس عظمت کو وہ سمجھ سکتے ہیں ورنہ نہیں۔اگر آپ سوئے رہیں، اگر آپ اپنے بچوں سے لا پرواہ رہیں، اگر خدا تعالیٰ کی ناشکری کرتے ہوئے جو ذہن آپ کے بچوں کو اس نے عطا کئے ہیں ان کا خیال نہ رکھیں، اگر وہ ذہن ضائع ہو جائیں اگر وہ ترقی نہ کریں، اگر وہ لوگوں سے آگے نہ نکلیں تو کیسے آپ ثابت کریں گے کہ قرآن کریم پر عمل کرنے والے تم لوگوں سے آگے بڑھنے والے ہیں۔(خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۰۷ تا ۶۱۲) آیت ۵۱ قَالَ رَبُّنَا الَّذِى اَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى سورۃ طہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔رَبُّنَا الَّذِى اَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى ہر چیز کو اس نے پیدا کیا۔اس میں طاقتیں رکھیں اس کو صلاحیتیں بخشیں۔اس کو استعدادیں عطا کیں۔پھر ان کے استعمال کے لئے اس کو طریقہ سکھایا اور سامان پیدا کئے ان کے لئے۔یعنی دو چیزیں اس نے پیدا کیں۔سامان پیدا کئے ان کی نشوونما کے۔مثلاً گندم کا دانہ ہے وہی مثال لوں پھر، گندم کے دانے کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک تو عام قانون کے مطابق اس میں قو تیں رکھیں۔ایک جہاں سے اس نے اپنا سامان لینا تھا۔نشو ونما کا سائل (Soil) میں فرٹیلیٹی (Fertility) رکھی یعنی وہ اجزار کھے جن سے گندم کا دانہ قوت حاصل کر کے بڑھ کے ایک سے سات سو تک بھی بن سکتے ہیں خدا تعالیٰ کے فرمان کے مطابق۔ابھی تک انسان اس قابل نہیں ہوا۔ناقص ہے اس کی عقل لیکن بن سکتے ہیں اور سامان پیدا کئے یعنی نشو ونما کی طاقتیں رکھیں۔نشو و نما کے سامان پیدا کئے۔پھر حکم ہوا کہ ان سے فائدہ اٹھاؤ۔اجزا کو حکم ہوا کہ ان کو فائدہ پہنچاؤ۔دوائی، بیمار ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے کہ ایک وقت میں ایک بیمار کو ایک دوا صحت نہیں دیتی دوائی کا کوئی اثر