انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 478
۴۷۸ سورة طه تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث تو یہ ایک توازن ہے ہمارے لئے علم کے میدان کھول دیئے۔جب یہ کہا کہ تم اگر تو ازن قائم نہیں رکھو گے بیمار ہو جاؤ گے تو پھر تمہیں تو ازن کی جہتیں قائم کرنی پڑیں گی۔توازن یہ لحمیات، پروٹین اور کاربوہائیڈریٹ، نشاستہ اور دوسری چیزیں ہیں اور اس کا پھر آگے بڑا المباعلم چلا گیا ہے۔تَنْزِيلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْأَرْضَ وَالسَّبُوتِ الْعُلى کہا تھا قرآن کریم کو نازل کرنے والے نے قرآن کریم کو اس لئے نازل نہیں کیا کہ تمہیں دکھ پہنچے ، اس لئے نازل کیا ہے کہ تمہارے سارے دکھوں کو دور کر دیا جائے اور دلیل یہ دی ہے تَنْزِيلاً مِّمَّنْ خَلَقَ الْأَرْضَ وَالسَّمَوتِ الْعُلى ان بلند آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے نے نازل کیا ہے اور یہ زمین اور سات بلند آسمان ان کی ہر چیز کے متعلق دوسری جگہ کہا سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّبُوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجانيه : ١٤) تمہاری خادم ہے۔تو جس خدا تعالیٰ نے کائنات کی ہر شے کو تمہارا خادم بنایا وہ اپنے کلام کے نزول کے وقت تمہارا خیال نہیں رکھے گا نا معقول بات ہے یعنی کوئی عقلمند آدمی تھیوریٹیکلی (Theoratically ) ہر دنیا کا دھر یہ بھی ہے اس کو میں قائل کروں گا کہ یہ حقائق ہیں۔اس میں اس کو ماننا پڑے گا کہ اگر کائنات کی ہر شے انسان کی خادم ہو تو پھر قرآن کریم کا نازل کرنے والا وہی ہے جس نے یہ اشیا بنائی ہیں تو مَا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى قرآن کریم تمہیں دکھ دینے کے لئے نہیں آیا، دکھوں کو دور کرنے کے لئے آیا ہے۔اس لئے میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ اپنے دکھوں کو دور کرنے کے لئے ہر قسم کے دکھوں سے اپنے آپ کو ، اپنے بچوں کو اپنی نسلوں کو محفوظ کرنے کے لئے قرآن کریم کو سیکھیں۔الْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآنِ ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۷۸) کا اعلان کیا گیا آج کی دنیا کے لئے جب وہ قرآن کریم سے پیچھے ہٹ رہی تھی۔خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کہا اعلان کر دو۔وہ اسی آیت کی روشنی میں ہے۔مَا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى یہ اعلان کرو کدھر جار ہے ہو تم قرآن کو چھوڑ کے۔اس لئے میں کہتا ہوں علم حاصل کرو اس حد تک جس حد تک علم حاصل کرنے کی خدا نے تمہیں استعداداور قابلیت دی۔تمہارے بچوں کو خدا نے دی اور اس علم سے صحیح فائدہ صرف اس وقت حاصل کر سکتے ہو جب تمہیں قرآن کریم آتا ہو اور یہ علم بھی تب تم حاصل کر سکتے ہو جب تمہیں قرآن کریم آتا ہو۔آج کی دنیا بڑی علمی ترقی کر گئی ہے لیکن مفلوج علم رکھتی ہے کیونکہ وہ قرآن کریم سے کٹی ہوئی ہے اور ان کی غلطی نکالنا ہمارا کام ہے۔ہم ان کی غلطی نکالتے ہیں اور ان کو