انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 473
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۴۷۳ سورة مريم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة مريم آیت ۴۹ وَ أَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَ اَدْعُوا رَبِّي عَسَى أَلَّا أَكونَ بِدُعَاء رَبِّي شَقِيَّان علی وجہ البصیرت میں یہ بات کہہ رہا ہوں۔میں نے محسوس کیا ہے کہ یہ دنیا کچھ اس قسم کی واقع ہوئی ہے اور اس کے مشاغل کچھ اس قسم کے ہیں کہ اگر آدمی ہمیشہ چوکس ہو کر اور بیدار ہوکر دعا کی طرف متوجہ نہ رہے تو دعا میں غفلت کر جاتا ہے اس لئے بار بار میں جماعت کو دعا کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور اپنے نفس کو تو ہر روز ہی توجہ دلاتا ہوں اس کی طرف۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک دعا قرآن کریم نے ہماری راہبری کے لئے محفوظ کی ہے۔عسى الا أكونَ بِدُعَاء رَبِّي شَقِيًّا کہ يقينا رب کے حضور جھک کر دعاؤں کے نتیجے میں میرا نصیبا سویا نہیں رہے گا۔تو اپنی قسمت کو جگانے کے لئے ، بیدار کرنے کے لئے دعا کی ضروت ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہی میں ہے اور اس کی رحمت سے ہی یہ ہو سکتا ہے کہ ہمیں یہ سب کچھ پل جائے جس کے حصول کی اس نے ہم میں سے ہر فرد میں طاقت بھی رکھی اور جس کو دینے کے لئے وہ ہر وقت تیار بھی ہے۔اگر ہم محروم رہتے ہیں تو ذمہ داری ہماری ہے۔ہمارے رب کی نہیں۔ہمارے اللہ نے تو اعلان کر دیا کہ ہر قسم کی ربوبیت کی ذمہ داری میری ہے۔وہ جو رب ہے۔اگر ہم اس کی طرف متوجہ نہ ہوں تو اس سے جو رب نہیں ہم کیا حاصل کر سکتے ہیں کچھ بھی نہیں۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۲۹،۲۸) آیت ۸۵ فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ إِنَّمَا نَعْتُ لَهُمْ عَدَّان اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا: - فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ تم ان کے خلاف جلدی نہ کرو۔مطلب