انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 471
مورة الكهف تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث جنت کو زور بازو سے حاصل کرلوں گا اور میں اسے اپنے اعمال کے زور پر خوش کرلوں گا۔اگر ہمارے اعمال خدا تعالیٰ کے ان احسانات کے مقابلہ میں رکھے جائیں جو اس نے ہم پر ہمارے پیدائش کے وقت سے لے کر موت تک کئے ہیں۔تو ہمارے اعمال ان احسانوں کے مقابلہ میں بطور شکر کے بھی کافی نہیں۔تو جب انسان نے پہلے قرضے ہی ادا نہیں کئے اور نہ وہ ادا کر سکتا ہے تو اپنے اعمال کی جزا کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔جب تک کہ خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت اس کے شامل حال نہ ہو۔غرض جب تک اللہ تعالیٰ انسان کو اپنے فضل اور رحمت سے نہ نوازے اس وقت تک نہ تو اسے جنت مل سکتی ہے اور نہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو سکتی ہے۔پس ایک طرف ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ ڈرتے ڈرتے اپنی زندگی کے لمحات گزار و اور دوسری طرف یہ کہا گیا ہے کہ کبھی مایوس نہ ہونا کیونکہ مایوسی کفر کی علامت ہے اور وہ اسی دل میں پیدا ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کے احکام کا منکر اور اس کے احسانوں کا ناشکر گزار ہو جو شخص خدا تعالیٰ کے ان احسانوں کو جو ہر آن اس پر ہورہے ہیں۔یاد کرنے والا ہو وہ اپنے اس احسان کرنے والے رب سے کس طرح مایوس ہو سکتا ہے۔غرض ہم نے زندگی کے یہ دن جو ہمیں عطا ہوئے ہیں ڈرتے ڈرتے گزارنے ہیں لیکن ہم نے خدا تعالیٰ سے کبھی مایوس نہیں ہونا۔کیونکہ وہ بڑا فضل کرنے والا بڑا رحم کرنے والا اور بڑا احسان کرنے والا ہے اور پھر ہمیں ہمیشہ اس سے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اے خدا ہم تو نیستی محض ہیں ہم اور ہمارے اعمال کچھ بھی نہیں لیکن ہم تیری ذات پر کامل اور پوری امید رکھتے ہیں کہ تو ہم سے احسان، فضل اور رحمت کا معاملہ کرے گا۔ہماری خطاؤں کو معاف کر دے گا ہمیں اپنی رضا کی جنت میں داخل کرے گا اور ہمیں توفیق دے گا کہ ہم تیرے شکر گزار اور حمد کرنے والے بندے بنے رہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے بندوں کے اس زمرہ میں شامل کرے جن سے وہ خوش ہوتا ہے اور اپنی رحمت سے انہیں نوازتا ہے۔خطبات ناصر جلد اول صفحہ ۱۱۹،۱۱۸)