انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 470
۴۷۰ سورة الكهف تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث اس بشر اور دوسرے بشر کے مابین بڑا فرق ہے۔اس کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بشر ہونے کے لحاظ سے اپنے وجود کو ہر بشر کے ساتھ بریکٹ کر دیا اور بتایا کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تمام دوسرے انسانوں میں کوئی فرق نہیں ہے بلحاظ نوع یکسانیت کا یہ شرف مردوں اور عورتوں دونوں کو حاصل ہے اسلام نے اس شرف میں شریک ہونے کے لحاظ سے مرد اور عورت میں کوئی تفریق نہیں کی بلحاظ استعداد مرد۔مرد اور عورت ، عورت میں بھی فرق ہے اور ہر ایک نے اپنے دائرہ میں رہتے ہوئے ترقی کرنی ہے ان میں سے کوئی اپنی استعداد کے مطابق کتنی ہی ترقی کر جائے۔اسلام کہتا ہے کہ بشر ہونے کے لحاظ سے بلا تفریق و امتیاز تمام مرد اور تمام عورتیں ایک ہی سطح پر ہیں۔خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۶۳۵،۶۳۴) فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَ لَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ أَحَدًا - یعنی جو شخص ہمارا وصال چاہتا ہے اسے چاہیے کہ نیک اور مناسب حال اور ہمارے احکام کے مطابق اعمال بجالائے اور کوشش کرے کہ ظاہری اور باطنی دونوں قسم کے شرکوں سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کو پاک رکھے۔اس میں کسی قسم کی آمیزش اور ملاوٹ نہ ہونے دے غرض ایسا شخص جو عبادت کے وقت صرف خدا تعالیٰ کی ہی عبادت کرتا ہے اور کسی اور کے سامنے سر نیاز خم نہیں کرتا اور خدا تعالیٰ کے احکام بجالانے کی ہر وقت کوشش کرتا رہتا ہے۔وہی امید رکھ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قرب اسے حاصل ہو جائے گا اللہ تعالیٰ اسے مل جائے گا اور جس شخص کو خدا تعالیٰ مل جائے اسے نہ اس جہان کی جنت کی ضرورت رہتی ہے اور نہ اگلے جہان کی جنت اسے درکار ہے دونوں جہانوں کی جنتوں کا منبع جو اسے حاصل ہو گیا۔غرض خوف اپنی جگہ پر ہے اور امید و رجاء اپنی جگہ پر ہے۔اسلام نے ہمیں کسی صورت میں بھی نا امید نہیں کیا ہمیں ڈرایا ضرور ہے۔تنبیہ ضرور کی ہے کہ تم ڈرتے ڈرتے اپنی زندگی گزارو۔اور ان احکام پر عمل کرو جو ہم نے تمہارے لئے نازل کئے ہیں۔ان بداخلاقیوں اور بداعمالیوں سے بچتے رہو جن سے بچنے کی ہم تمہیں تلقین کرتے رہتے ہیں اور ہمیں بشارت دی ہے کہ اگر تم ایسا کرو تو میں تمہارے لئے اس دنیا میں بھی جنت کا ماحول پیدا کر دوں گا۔لیکن تم اپنے عمل پر کبھی بھروسہ نہ کرو۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی ذات اتنی ارفع ، اتنی اعلیٰ ، اتنی شان اور اتنی طاقت والی ہے کہ اگر کسی انسان کے دماغ میں معمولی عقل بھی ہے تو وہ ایک لحظہ کے لئے بھی یہ نہیں سوچ سکتا کہ میں اس کی رضا کی