انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 455 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 455

۴۵۵ مورة الكهف تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایک حقیقت قرآن کریم نے یہ بیان کی ہے اور قرآن کریم نے ہمارے محبوب آقا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایک دوسری حقیقت یہ بیان کی کہ قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللهِ نُورُ ( المائدة :١٢) اور آپ کو سِرَاجًا منيرا (الاحزاب : ۴۷) کہا یعنی ایک چمکتا ہوا سورج اور کہا کہ آپ مظہر اتم الوہیت ہیں اور جو کامل نور ہے جو کامل طور پر دنیا کو روشن کرنے والا سورج ہے اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ مظہر اتم الوہیت ہو۔اور جو مظہر اتم الوہیت ہے اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے متعلق یہ اعلان ہو کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفَلَاكَ (موضوعات کبیر زیر حرف لام )۔یہ دو حقیقتیں ہیں جو ایک ہی وجود میں پائی جاتی ہیں اور نوع انسانی نے ان حقائق مقام محمدیت سے دو مختلف فائدے اٹھائے ہیں قُلْ اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں یہ اعلان کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اُسوہ کی شکل میں بنی نوع انسان کے سامنے پیش کیا گیا ہے کیونکہ اگر یہ ہوتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بشر نہیں بلکہ سپر مین ( super man) ہیں اور بشر سے کوئی بلند و بالا چیز ہیں تو انسان کہتا کہ میں عاجز انسان ایک ایسی ہستی کی جو بشر سے کہیں بالا ہے، پیروی کیسے کر سکتا ہوں وہ میرے لئے اُسوہ کیسے بن سکتی ہے تو بشر کہہ کے آپ کو اُسوہ بنایا اور نور کہہ کے آپ کو خاتم الانبیاء بنایا کیونکہ کامل نور مظہر اتم الوہیت ہے ویسے اصل نور تو اللہ ہے اللهُ نُورُ السّمواتِ وَالْأَرْضِ ( النور : ۳۶) لیکن اللہ کے بعد مخلوق میں سے جو کامل نور کی حیثیت سے دنیا کی طرف آیا وہ خاتم الانبیاء ہے اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام بشر ہونے کے لحاظ سے مختلف ہے بشر کے مقام کے نتیجہ میں آپ اُسوہ بنے اور نور ہونے کے لحاظ سے آپ ایک طرف مظہر اتم الوہیت بنے اور دوسری طرف لولاك لَمّا خَلَقْتُ الاَ فُلاك (موضوعات کبیر زیر حرف لام) کی صداقت انسان کے سامنے رکھی گئی نور ہونے کی حیثیت سے آدم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء سے نور حاصل کیا لیکن بشر ہونے کے لحاظ سے چونکہ آپ نے اس دنیا میں زندگی بعد میں گذاری اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آدم علیہ السلام کے لئے اُسوہ تو نہیں بن سکتے تھے۔آدم نے تو آپ کی شان دیکھی ہی نہیں ہزاروں سال کے بعد آپ کی پیدائش ہوئی لیکن بعد میں آنے والی امت کے لئے بشر ہونے کے لحاظ سے آپ اُسوہ ہیں اور یہ اُسوہ قیامت تک کے لئے ہے اور نور ہونے کے لحاظ سے لولاك لما خَلَقْتُ الْاَ فُلاك کا نعرہ لگایا گیا اور اس سارے جہان میں جہاں بھی ہمیں نور نظر آتا