انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 454
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۵۴ سورة الكهف حصول کا ذریعہ بنالیتا ہے اور اس کے متعلق ہمیں کہا جاسکتا ہے کہ وہ ضَلَّ سَعْيُهُمُ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا والے گروہ میں ہے۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۲۱۲ تا ۲۱۴) آیت ااا قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا الْهُكُمُ الهُ وَاحِدٌ ۚ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَ لَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ أَحَدًا قرآن کریم نے محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا ہم سے کیا تعارف کروایا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمارا کیا ایمان ہے۔قرآن کریم نے ایک ہی وقت میں ہمیں دو باتیں بتائی ہیں ایک طرف ہمیں یہ کہا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں دیگر جو بشر ہیں ان کی طرح چنانچہ فرمایا : قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا الهُكُمُ اللَّهُ وَاحِدٌ ۚ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَ لَا يُشْرِكْ بعبادة ربة أحدًا مساوات انسانی کا ایک بڑا ہی عظیم نعرہ چودہ سو سال پہلے لگا یا گیا اس وقت تک انسان نے اس کی عظمت اور اس کی حقیقت کو نہیں سمجھا۔ہم حیران ہوتے ہیں کہ اپنے آپ کو بڑے بڑے عقلمند کہنے والے انسانی مساوات کی حقیقت اور اس کی تعریف کو سمجھتے ہی نہیں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان نہ کسی ماں نے ویسا بچہ جنا اور نہ جن سکتی ہے اتنی عظمتوں والے انسان کے منہ سے دورود قرآن کریم نے یہ کہلوایا قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم یہ اسلام کی صداقت کی ایک بڑی دلیل ہے میں نے ۱۹۷۰ء میں اس سے فائدہ اٹھایا اور تقریروں میں اسے بیان کرتا رہا۔ایک جگہ کچھ پادری منہ بنا کے بیٹھے ہوئے تھے اس ملک کا لاٹ پادری بھی وہاں تھا تو وہاں پر مجھے خیال آیا کہ ان کو اسلام سے تعارف تو کراؤں چنانچہ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو پیراماؤنٹ پرافٹ ہیں میں نے ان کی زبان کا محاورہ لیا) ان کی زبان سے خدا نے یہ کہلوا یا قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ کہ بشر ہونے کے لحاظ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور تم افریقن میں کوئی فرق نہیں تو وہ جو آپ کے نائب اور جوئیر قسم کے انبیاء تھے جیسے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام گذرے ہیں انہیں اور ان کے متبعین کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے آپ کو تم سے بڑا سمجھیں۔اس پر وہ پادری یوں اچھلے انہوں نے کہا کہ یہ کیا بم شیل ہمارے اوپر گرا دیا ہے پس نعرے لگانا اور چیز ہے اور حقیقت کو سمجھ کر اپنی زندگی اور معاشرہ کو اس کے مطابق ڈھالنا یہ بالکل اور چیز ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق