انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 438 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 438

۴۳۸ سورة الكهف تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ہے جو تیرے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔یہ ایک ایسی صداقت ہے جس سے اگر چہ انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن کسی انسان پر کوئی زبردستی نہیں ہے فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْ مِن جو آدمی چاہے اپنی مرضی سے ایمان لائے ، اپنی مرضی سے اپنے ایمان کا اعلان کرے وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ اور جو چاہے اپنی مرضی سے ایمان لانے سے انکار کرے اور کفر کی راہ کو اختیار کرے۔مگر کسی کو یہ نہ بھولنا چاہیے کہ اِنَّا اَعْتَدْنَا لِلظَّلِمِينَ نَارًا اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا خدا تعالیٰ نے ظالموں کے لئے جو فطرت انسانی کی صلاحیتوں کو بے موقع اور بے محل خرچ کرتے ہیں ( ظلم کے معنے کسی کام کو بے موقع ومحل کرنے کے ہیں ) اور فطرت صحیحہ کے مطابق عمل نہیں کرتے ، داعی الی الخیر کی آواز کو نہیں سنتے ان کے لئے ایک ایسی آگ تیار کی گئی ہے جس کی چار دیواری نے ان کو گھیرا ہوا ہے۔فَمَنْ شَاءَ فَلْيُو من کے متعلق قرآن کریم میں کئی اور جگہوں پر بھی اعلان ہوا ہے مثلاً یہی کہ إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَبِكَةُ أَلَا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ (حم السجدة: ۳۱) جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے اور مَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنُ کے مطابق وہ اپنے ایمان کا اعلان کرتے ہیں اور پھر ایمان پر استقامت اختیار کرتے ہیں فرشتے خدا تعالیٰ کی بشارتیں لے کر یعنی خدا تعالیٰ کے پیار کے پیغام لے کر ان پر نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں جب خدا سے تمہارا تعلق ہے تو پھر أَلَا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا تمہیں کسی کا خوف نہیں ہونا چاہیے اور نہ کسی کا حزن تم سے جو غلطیاں ہوئیں وہ معاف ہوگئیں۔وَابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ تم خوش ہو جاؤ کہ خدا نے اپنی پیار کی جس جنت کا وعدہ کیا تھا خدا کی نگاہ میں تم اس کے مستحق ہو گئے۔پس گفتگو کے موقع پر ایک دوسرے کو آرام سے سمجھانا اور الہی بشارتوں کو یاد دلانا اور ایمان صحیح اور اعمال صالحہ کے نتیجہ میں انسان کے لئے جو انعامات مقدر ہیں ان کا ذکر کرنا اور خدا تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کو بیان کرنا یہ تو ٹھیک ہے لیکن اگر کوئی شخص نہیں مانتا تو اس سے زبردستی کوئی نہیں کرنی۔۔۔۔۔۔غرض قرآن کریم نے یہ اعلان کیا۔فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْ مِن اور یہ بھی اعلان کیا فَا مِنُوا خَيْرًا لَّكُمْ یعنی تمہیں اختیار تو ہے کہ تمہاری مرضی ہو تو ایمان لاؤ اور مرضی ہو تو نہ لاؤ لیکن یہ بھی تمہیں بتادیا جاتا ہے کہ تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ تم ایمان لے آؤ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-