انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 437 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 437

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۳۷ مورة الكهف اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطنا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الكهف آیت ۳۰ وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّلِمِينَ نَارًا اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ۖ وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءِ كَالْمُهْلِ يَشْوَى الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءَتْ مُرْتَفَقًا جب ہم اس کائنات پر نظر ڈالتے ہیں اور قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں غور کرتے ہیں تو یہ شکل سامنے آتی ہے اور اس سے یہ لازمی نتیجہ نکلتا ہے کہ ہر انسان آزاد ہے اپنے اعتقاد میں بھی اور آزاد ہے اپنے عمل میں بھی۔وہ عقیدہ جس کا اعلان کسی کی زبان سے زبر دستی کروایا جائے وہ نیکی نہیں ہے اور نہ کسی کا یہ حق ہے کہ وہ ایسا کر وائے۔اسی طرح وہ عمل صالح جو گردن پر تلوار رکھ کر کروایا جائے وہ بھی نیکی نہیں۔نیکی وہی ہے اور وہی عمل خدا کو پیارا ہے جس میں احکام الہی کی اطاعت مد نظر ہو۔خدا کے نزد یک ایک اچھا عقیدہ وہی ہے جسے انسان اپنی مرضی سے اختیار کرتا ہے۔اسلامی تعلیم کے مطابق عقیدہ صحیحہ یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی اطاعت کرے اور اس کے مطابق اپنی زندگی میں اعمال بجالائے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مذہبی آزادی یعنی ایمان لانے یا نہ لانے کےاس اختیار کا جوخدا نے انسان کو دیا ہے متعدد جگہ ذکر کیا ہے۔اس وقت میں دو آیات کولوں گا۔لا اول۔اللہ تعالیٰ سورۃ کہف میں فرماتا ہے وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْ مِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّلِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ۖ وَ إِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءَتْ مُرْتَفَقًا - اے رسول ! تو لوگوں کو کہہ دے کہ یہ تو حقیقت ہے کہ قرآن کریم اور اسلامی تعلیم حق وصداقت پر مبنی