انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 405
سورة النحل تفسیر حضرت خلیفۃ المسح الثالث عزاسمہ تمہیں ان راہوں کے سمجھنے اور ان کے جاننے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب اس رحمت کا نزول انسان پر ہو جاتا ہے تو اس کو اس کی خوشیاں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی وہ جنت مل جاتی ہے کہ جس کی قیمت کا تصور بھی ہمارے دماغ نہیں کر سکتے۔قرآن کریم نے یہ سب باتیں بیان کرنے کے بعد مسلمانوں کے لئے عظیم بشارت کا پیغام دیا ہے قرآن کریم کی اس عظیم بشارت کا پیغام آج میں اپنے بھائیوں کو پہنچا تا ہوں اس دعا کے ساتھ ایک مسلمان کو جو بشارتیں رب رحیم نے دی ہیں وہ ہمیشہ ہی ہم احمدیوں کو ملتی رہیں۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۴۵۱،۴۵۰) آیت ۱۰۷ مَنْ كَفَرَ بِاللهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِةِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مطمين بِالْإِيمَانِ وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ جولوگ بھی اپنے ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا انکار کریں سوائے ان کے جنہیں کفر پر مجبور کیا گیا ہو لیکن ان کے دل ایمان پر مطمئن ہوں وہ گرفت میں نہ آئیں گے (جن کا دل مطمئن ہے ) ہاں وہ جنہوں نے اپنا سینہ کفر کیلئے کھول دیا ہو ان پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا غضب نازل ہوگا اور ان کے لئے بڑا بھاری عذاب مقدر ہے اور پھر فرماتا ہے اس کے بعد اور ایسا اس سبب سے ہوگا، اگلی آیت میں ہے کہ انہوں نے اس ورلی زندگی سے محبت کر کے اسے آخرت پر مقدم کر لیا اور نیز اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ کفر اختیار کرنے والے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا تو ایک شخص کفر کی راہوں کو اختیار کرتا ہے۔ایک شخص دنیا سے اندھی محبت رکھتا ہے اور دنیا کو اپنے پیارے رب کے لئے چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ایک شخص مُطمین بالکفر ہے اور شَرَحَ بِالكُفْرِ صدرا اس کا اس کے اوپر اطلاق ہوتا ہے اس کے متعلق خدا یہ اعلان کرتا ہے کہ عَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللہ خدا کا غضب ایسے لوگوں کے اوپر نازل ہوتا ہے اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے عذاب عظیم مقدر کیا یعنی جو شخص اپنی مرضی سے دنیا سے پیار کرنے والا کفر کی راہوں کو اختیار کرنے والا اور کفر پر شرح صدر رکھنے والا ہے یہ تصویر کھینچ دی نا