انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 387 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 387

تفسیر حضرت خلیفتہ المسح الثالث ۳۸۷ سورة النحل هونه یه قرآن کریم کا ہے اَخُلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوله رفعتوں سے محرومی اسے ملی اور زمین پہ اسی طرح ، زمین کا کیڑا جس طرح زمین پر چل رہا ہوتا ہے وہ اس کی حالت بن گئی۔انسان زمینی گراوٹ کے لیے نہیں پیدا کیا گیا۔انسان کو مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریت: ۵۷) کی آیت جس کی طرف اشارہ کرتی ہے ) آسمانوں کی بلندیوں کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بشارت دی امت مسلمہ کو کہ جب تم میں سے کوئی عاجزی، انکساری اور تواضع کی راہوں کو اختیار کرے گا رَفَعَهُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ (کنز العمال جلد ۲ صفحہ ۲۵) ساتویں آسمان کی بلندیاں اسے حاصل ہو جائیں گی۔یہاں یہ فرمایا اگر وہ ہماری مرضی کی راہوں کو اختیار کرتا لرفعنہ ہم نے اس کے لیے بلندیاں مقدر کیں ہوئی تھیں لیکن آخلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وہ تو زمین پر گر پڑا ، زمین کا کیڑا بن گیا وَاتَّبَعَ هَواهُ اور اپنے اہوائے نفس کی اتباع اس نے کرنی شروع کر دی۔دوسری چیز جس سے کہ حصول میں روک بنتی ہے اتباع اہوائے نفس وہ یہ ہے۔شہوات نفسانی کی پیروی کرنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب ہوتی ہے۔سورۃ الانعام آیت ۱۵۱ میں اس مضمون کو بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص اہوائے نفس کی اتباع کا ، پیروی کا مرتکب ہوگا اتناظلم کر رہا ہوگا اپنے نفس پر کہ اللہ تعالیٰ نے جو آیات اس کی بہتری کے لیے نازل کی ہیں ان کی وہ تکذیب کر رہا ہے۔اہوائے نفس کی پیروی تکذیب آیات باری ہے۔یہ اعلان کیا گیا ہے۔آیات“ جو ہیں قرآن کریم میں دو معنی میں استعمال ہوئی ہیں۔دنیوی انعامات مثلاً ایٹم کے ذرے میں وہ طاقت جو آج انسان نے معلوم کی اور روحانی انعامات جو اللہ تعالیٰ نازل کرتا ہے اور فرمایا ہے کہ موسلا دھار بارش کے قطروں کی طرح میری آیات، انعامات جو ہیں ، نعماء جو ہیں وہ تم پر نازل ہو رہی ہیں۔ہر آیت کا انکار ہو رہا ہے۔ایٹم کے ذرے ہی کو لو جو انسان کی بھلائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے تخلیق کی اسے انسان کی تباہی کے لیے استعمال کرنے کے ہتھیار بنالئے۔تو اہوائے نفس کا نتیجہ تکذیر آیات اور ناشکری آیات باری کی ہے۔تیسرے یہ کہ خواہشات نفس کی جو پیروی کرے وہ اللہ تعالیٰ کی دوستی اور اس کی مدد اور پناہ سے محروم کر دیا جاتا ہے۔سورۃ الرعد کی آیت ۳۸ میں یہ مضمون بیان ہوا ہے۔بڑا سخت نقصان ہے یہ۔