انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 383 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 383

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۳۸۳ سورة النحل دی جائے تو تمہارا فرض ہے کہ تم اس آزمائش میں بھی پورے انتر وتا ہمارے فضلوں کے وارث ٹھہرو۔اسی طرح عرب تیں اور وجاہتیں بھی خدا تعالیٰ کی ہی دی ہوئی ہیں جو ایک مومن کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنی پڑتی ہیں۔خدا تعالیٰ کے احکام میں ایک حصہ نواہی کا ہے یعنی بعض باتیں ایسی ہیں جن سے وہ روکتا ہے مثلاً دنیوی رسم و رواج ہیں جن کی وجہ سے بعض لوگ اپنی استطاعت سے زیادہ بچوں کی بیاہ شادی پر خرچ کر دیتے ہیں حالانکہ وہ اسراف ہے جس سے اللہ تعالیٰ منع فرماتا ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے رسم و رواج کو پورا کرنے کے لئے خرچ نہ کیا ہمارے رشتہ داروں میں ہماری ناک کٹ جائے گی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری خاطر رسم و رواج کو چھوڑ کر اپنی ناک کٹواؤ تب تمہیں میری طرف سے عزت کی ناک عطا کی جائے گی۔توالخیر جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ مومنوں کو آزماتا ہے۔وہ قرآن کریم کے احکام ہیں۔اس کے مقابلہ میں الشّر کا لفظ استعمال فرمایا ہے گویا ہر وہ حکم امر ہو یا نہی جو قرآن کریم کے مخالف اور معارض ہو۔اسے اکشر کہا گیا ہے کیونکہ شیطان اور اس کے پیروؤں کا یہ کام ہے کہ وہ لوگوں کے کانوں میں قرآن کریم کے خلاف باتیں ڈالتے رہتے ہیں۔کبھی یہ کہتے ہیں کہ خدا کی راہ میں مال خرچ کرنے کا کیا فائدہ؟ کبھی یہ کہتے ہیں کہ ان مومنوں کی خاطر جو کمزور اور غریب مہاجر ہیں تم اپنے وقتوں اور عزتوں کو کیوں ضائع کرتے ہو۔دیکھ لیں منافقوں کا وطیرہ اور کفار کا یہی طریق ہے کہ وہ قرآنی احکام کے مقابل معارض باتیں مومنوں کے کانوں میں ڈالتے ہیں اور یہ غلط امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کی باتوں پر کان دھریں گے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے مومن بندوں پر شیطان کا تسلط نہیں ہوا کرتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک طرف احکام قرآنی ہیں جو تمہارے سامنے ہیں اور ایک طرف وساوس شیطانی ہیں جو تمہیں ان کی خلاف ورزی پر آمادہ کر رہے ہیں اور ان ہر دو کے ذریعہ سے تمہاری آزمائش کی جارہی ہے۔اس آزمائش میں پورا اترنے کے لئے ضروری ہے کہ تم یہ یا درکھو کہ تم ہماری طرف ہی لوٹ کر آنے والے ہو۔جو شخص آخرت پر حقیقی ایمان رکھتا ہو اور اسے یہ یقین کامل حاصل ہو کہ اکینَا تُرْجَعُونَ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا وہ کسی بھی آزمائش کے وقت کس طرح ٹھو کر کھا سکتا ہے؟ پس