انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 381 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 381

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۳۸۱ سورة النحل بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة النحل آیت ۳۱ وَقِيلَ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا مَا ذَا انْزَلَ رَبُّكُمْ قَالُوا خَيْرًا لِلَّذِينَ احْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِينَ۔پہلا امتحان اور آزمائش ( کیونکہ فتنہ کے معنی امتحان اور آزمائش کے ہیں ) وہ احکام الہی یا تعلیم الہی ہے۔جو ایک نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آتا ہے اور جس تعلیم کے نتیجہ میں مومنوں کو کئی قسم کے مجاہدات کرنے پڑتے ہیں۔اپنے نفسوں کو مارنا پڑتا ہے بعض دفعہ اپنے مالوں کو قربان کرنے سے اور بعض دفعہ اپنی عزتیں اور وجاہتیں اللہ تعالیٰ کے لئے نچھاور کرنے سے۔قرآن کریم چونکہ آخری شریعت ہے اس لئے اس نے ہمارے لئے کامل ہدایت مہیا کی۔اور ان کامل مجاہدات کے طریق ہمیں سکھائے جن پر عمل پیرا ہو کر ہم انتہائی عظیم الشان نعمتوں کے وارث بن سکتے ہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَ نَبلُوكُم بِالشَّرِ وَالْخَيْرِ فِتْنَةٌ وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ (الانبياء : ۳۶) یعنی ہم تمہاری اکشر اور الخَیر کے ذریعہ آزمائش کریں گے۔اور آخر ہماری طرف ہی تم کو لوٹا کر لایا جائے گا۔گویا فرما یا اگر تم اس آزمائش میں پورے اترے جسے ہم الخیر کہہ رہے ہیں۔اس سے تم نے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا اور جسے ہم اک شیر کہہ رہے ہیں اس سے تم زیادہ سے زیادہ بچے تو جب تم ہماری طرف لوٹ کر آؤ گے تو اسی کے مطابق ہماری طرف سے تمہیں اچھا بدلہ ملے گا۔قرآن کریم کے بہت سے بطون ہیں جن کے مطابق ہم اس کی بہت سی تفاسیر کرتے ہیں۔یہاں الخیر کے ایک معنی خود قرآن کریم اور اس کے اوامر و نواہی ہیں جیسا کہ فرمایا۔وَقِيلَ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا مَا ذَا انْزَلَ رَبُّكُمْ