انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 375 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 375

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۷۵ سورة الحجر گھی صرف گائے بھینس کا نہیں بلکہ جو گھی مصنوعی طور پر تیار کئے جاتے ہیں مثلاً تو ریہ سے مصنوعی گھی تیار کیا جاتا ہے وہ بھی گھی کی ایک قسم ہے اور اس میں چکنائی پائی جاتی ہے۔پس گھی اور پروٹین ہے میں نے سمجھانے کے لئے پروٹین کا مطلق لفظ بول دیا ہے ورنہ اس کی آگے آٹھ نو معلوم قسمیں ہیں ابھی اور آگے پتہ نہیں کتنی قسمیں معلوم ہوں۔غرض غذا کی ان تمام چیزوں میں توازن ہونا چاہیے۔ہر ایک چیز کو ایک اندازے کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔پس غذا کے تمام اجزا متوازن اور مناسب ہونے چاہئیں اور پھر غذا کے ہضم کا توازن بھی برقرار رکھنا چاہیے کیونکہ ہر چیز میں توازن کا اصول کارفرما ہے اس لئے جتنی غذا استعمال کی جائے اس کے ہضم کرنے کا بھی انتظام ہونا چاہیے کیونکہ قدرت نے ہر چیز میں توازن قائم کر رکھا ہے۔شیر کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ دواڑ ھائی بلکہ تین من تک شکار کا گوشت کھا لیتا ہے لیکن پھر وہ آرام نہیں کرتا بلکہ گوشت کو ہضم کرنے کیلئے جنگلوں میں کم و بیش پچاس میل کا چکر کاٹتا ہے پھر وہ سو جاتا ہے اور جب اُٹھتا ہے تو اسی بچے کھچے گوشت کا ناشتہ کرتا ہے کیونکہ اس کی بڑی خوراک یہی گوشت ہے پس شیر کو اللہ تعالیٰ نے آزادی اور اختیار نہیں دیا بلکہ اپنے حکم کا پابند بنایا۔خدا تعالیٰ نے اس کو فر ما یا کئی من گوشت تجھے کھانے کو دیتا ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ میں نے میزان کا جو اصول قائم کیا ہے وہ برقرار رہے اس لئے اس کو ہضم کرنے کے لئے تجھے کم و بیش پچاس میل کی دوڑ لگانی پڑے گی اور اگر ہم بھی اسی قسم کی دوڑ لگا ئیں تو بے شک شیر جتنا گوشت تو نہ کھا سکیں لیکن ہماری خوراک ضرور بڑھ جائے۔ایک بنیا جو اپنے سامنے بہی کھاتے کھول کر بیٹھا رہتا ہے اور ساتھ خوب مٹھائی (ہاں یہ بھی میزان خوراک میں ایک بڑا جزو ہے ) کھاتا رہتا ہے جس کے نتیجہ میں اس پر چربی چڑھ جاتی ہے اور پیٹ بڑھ جاتا ہے اتنا کہ مثال کے طور پر ہم کہہ دیں کہ اس کے اندر ایک ہاتھی چھپ جائے۔غرض اس سے اپنا پیٹ سنبھالا نہیں جاتا کیونکہ ایک تو اس نے غیر متوازن غذا کھائی اور جو کھائی اس کے ہضم کا انتظام نہیں کیا۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے زمین کی ہر چیز کو موزوں پیدا کیا ہے۔ہر چیز میں توازن کا قانون جاری کیا ہے جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ کسی چیز کی موزونیت نسبت سے تعلق رکھتی ہے یہ انسان کی نسبت ہے کیونکہ ہر چیز کو انسان کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور پھر تمام انسانوں میں سے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفت ہے جن کے لئے یہ ساری مخلوق ظہور پذیر ہوئی۔آپ انسانیت کا نچوڑ اور جو ہر کامل ہیں۔