انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 373
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۳۷۳ ورة الحجر پیدا کئے گئے لیکن اس آخری زمانہ میں جبکہ اسلام پر کفر کا حملہ انتہائی شدت اختیار کر گیا اور مطہرین کے گروہ کے سپر د قرآن کریم کی تین قسم کی مدافعت کرنے اور اسلامی تعلیمات کی برتری ثابت کرنے کا جوانتظام کیا گیا تھا اس کی ضرورت بیک وقت پیش آگئی۔گویا تینوں قسم کے حملے ایک ہی وقت میں اسلام پر مختلف اطراف سے ہونے لگے تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حسب بشارات امت محمدیہ پر رحم کرتے ہوئے مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کو کھڑا کیا اور وہ امت محمدیہ کے مطہرین کی فوج کا سالا رلشکر بنا اور مطہرین کی جماعتوں کو مختلف زمانوں میں مختلف شکلوں میں جو ہرسہ روحانی قوتیں ملتی چلی آ رہی تھیں وہ سب کی سب اسے عطا کی گئیں۔چنانچہ اُس نے زندہ نشانوں کے ذریعہ زندہ خدا کا ثبوت دے کر یہ ثابت کیا کہ جن نشانات کا ذکر قرآن کریم میں ہے وہ محض قصے کہانیاں نہیں اگر خدا تعالیٰ اپنے قادرانہ تصرف کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے ثبوت کی خاطر آج انہونی باتوں کو ہونی کر سکتا ہے تو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنے محبوب کی صداقت میں معجزات اور نشان کیوں نہیں دکھا سکتا تھا۔غرض جب قرآن کریم پر اس قسم کے اعتراضات کر کے اس میں تحریف معنوی کرنے کی کوشش کی جارہی تھی تو خدا تعالیٰ کا جرنیل اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب روحانی فرزند کھڑا ہوا اور اس نے اسلام کی مدافعت کی اور اس کی برتری ثابت کی۔فلسفیوں کا جوگر وہ کھڑا ہوا تھا اور کہتا تھا کہ قرآن کریم کی بعض باتیں عقل کے خلاف ہیں ان کو یہ کہا کہ عقل خود اندھی ہے گر نیز الہام نہ ہو یہ محض تھیوری نہیں ہے یہ کوئی فلسفہ نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد آپ کی جماعت میں آج بھی خلفاء اور ائمہ اور اکابرین کا سلسلہ جاری ہے۔ہم قرآن کریم کی صداقت میں جو بات کرتے ہیں ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔دنیا کا کوئی فلسفی ہمارے سامنے آ کر بتائے کہ قرآن کریم کی فلاں آیت یا اس کی فلاں تعلیم خلاف عقل ہے۔ہم ثابت کریں گے کہ وہ خلاف عقل نہیں ہے بلکہ اس کی اپنی عقل اندھی ہے جو حقیقت کو نہیں پا رہی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر خدائی نشانوں کا ایک سلسلہ جاری ہو گیا اور آپ نے فرمایا کہ یہ نشان ثابت کرتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو نشانات ظاہر ہوئے اور جن کو قرآن کریم نے محفوظ رکھایا جن کی تفصیل احادیث سے ملتی ہے۔وہ بھی محض قصے کہانیاں یا