انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 372 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 372

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۷۲ سورة الحجر رڈ کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے مطہرین کے گروہ میں سے ایک ایسا شکر بنا تا ہے اور ان کو فہم قرآن عطا کرتا ہے۔وہ غلط قسم کے عقلی اعتراضات کا جواب دیتے ہیں اور قرآن کریم کی تعلیم پر حملہ کرنے والوں کو پسپا کرتے ہیں اور ان پر قرآن کریم کی برتری کو ثابت کرتے ہیں۔پھر ایک اور قسم کی تحریف معنوی ہے جس کا ارتکاب نادانستہ طور پر خود مسلمان ممالک میں کیا جارہا ہے اور ان کی شدت بھی معاندین کے اعتراضات سے کم نہیں ہے اور وہ یہ دُکھ دہ اور شرمناک پرو پیگنڈا اور پر چار ہے کہ پانچ وقت کی نمازیں پڑھنا تو پرانے زمانے کی باتیں ہیں اور اسی طرح یہ بھی کہا جارہا ہے کہ شراب پینا تو اس لئے منع کیا گیا تھا کہ عرب کا گرم علاقہ تھا۔اب ہم ان سے زیادہ اچھے اور مہذب انسان ہیں ہمیں شراب نقصان نہیں پہنچائے گی۔پس یہ اور اس قسم کے دوسرے اعتراضات قرآن کریم میں تحریف معنوی کے مترادف ہیں۔ان اعتراضات کو رد کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے مطہر بندوں میں سے ایک گروہ کو کھڑا کرتا اور اسے فہم قرآن عطا کرتا ہے اور وہ تحریف معنوی کا ازالہ کرتا ہے۔تحریف معنوی کی چوتھی کوشش یہ کی گئی کہ قرآن کریم میں جن عظیم معجزات اور نشانوں کا ذکر ہے اور جو انسانی طاقت سے بالا اور خدا تعالیٰ کے قادرا نہ تصرفات کی دلیل ہیں ان کا انکار کر دیا گیا اور بڑے اصرار کے ساتھ یہ کہہ دیا گیا کہ نعوذ باللہ وہ سب کے سب غلط ہیں۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔چوتھے روحانی انعام پانے والوں کے ذریعہ سے جنہوں نے خدا کی پاک کلام کو ہر ایک زمانہ میں معجزات اور معارف کے منکروں کے حملہ سے بچایا ہے۔“ ایام الصلح روحانی خزائن جلد نمبر ۱۴ صفحه ۲۸۸) پس یہ چار قسم کے لشکر ہیں جن میں سے تین کا تعلق مطہروں سے ہے۔جنہیں اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی حفاظت لفظی اور معنوی کے لئے اس پیاری امت میں ہر صدی میں کھڑا کر تا رہا ہے۔ایک لشکر کوقوت حافظہ کے اسلحہ سے مسلح کیا اور انہوں نے قرآن کریم کو تحریف لفظی سے بچایا اور دوسرے ہر صدی میں مطہرین کی ایک جماعت پیدا ہوتی رہی جن کے ذریعہ وقت کی ضرورت اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق کسی ایک قسم کی اور کبھی دوسری قسم کی اور کبھی تیسری قسم کی تحریف معنوی سے بچانے کے سامان