انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 371
۳۷۱ سورة الحجر تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث کی اپنی محنت اور فطرت کا دخل ہوتا ہے تو اس کے مکھی کے پیٹ میں سے نکلنے پر اعتراض بے معنی ہے غرض اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے اور ان سے اپنے بعض بندوں کو فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائی اور خدا کے فعل نے معترضین کو ملزم قراردیا اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق دی کہ ہم ان کا مذاق اڑائیں۔وہ قرآن کریم کو استخفاف کی نظر سے دیکھنا چاہتے تھے مگر ہم نے دنیا پر یہ ثابت کر دکھایا کہ استخفاف کی نظر سے اگر کسی چیز کو دیکھا جاسکتا ہے تو وہ وہ نتائج ہیں جو اہل یورپ کے علوم، ان کی سائنس اور ان کی تحقیقات نکال رہی ہیں۔وہ آج ایک دوائی بناتے ہیں اور اس کی بڑی تعریف کرتے ہیں اور دس سال کے بعد کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو ایک زہر تھا۔ہم نے اس دوائی کو بنا کر بڑی غلطی کی اسی طرح آج ایک طبی مشورہ دیتے ہیں اور اگلے چند سال کے بعد کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے غلط مشورہ دیا تھا۔مثلاً ایک زمانے میں یورپ کے ایلو پیتھی کے اطباء نے کہہ دیا کہ مائیں اپنے بچوں کو دودھ نہ پلائیں یہ ان کے لئے نقصان دہ ہے۔مگر اسلام نے یہ کہا تھا حَملُهُ وَفِضْلُهُ ثَلَثُونَ شهرا (الاحقاف : ۱۲) یعنی ماں کیلئے ایک معین وقت تک بچے کو دودھ پلانا ضروری ہے۔یہ ماں کی صحت کے لئے بھی مفید ہے اور بچے کی صحت کے لئے بھی ضروری ہے (اس کی تفصیل میں مجھے جانے کی ضرورت نہیں ہے ) لیکن اسلام کے معاندین نے اسلام کی اس تعلیم پر یہ اعتراض کر دیا کہ دودھ پلانے سے بچے کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ الٹا ماں کو نقصان پہنچتا ہے اور اس کی صحت خراب ہو جاتی ہے۔چنانچہ ساری دنیا میں اس بات کی تشہیر کی گئی کہ مائیں اپنے بچوں کو اپنا دودھ نہ پلایا کریں۔آسٹر ملک اور فلیکسو وغیرہ کے دودھ ( جو بند ڈبوں میں دستیاب ہوتے ہیں وہ ) پلا یا کریں۔جب پندرہ بیس سال گزر گئے اور ان کی ایک نسل صحت کے لحاظ سے تباہ ہوگئی تو پھر یہ اعلان کر دیا کہ ہم نے بڑی بیوقوفی کی تھی اور غلط مشورہ دیا تھا۔بچے کو دودھ پلانے سے تو عورت کی صحت بنتی ہے۔بگڑتی نہیں۔پس قرآن کریم کی تعلیم دراصل عقل، مشاہدہ اور سائنس کے خلاف نہیں ہے بلکہ سائنس اور عقل اور مشاہدہ قرآن عظیم کی ارفع و عظیم تعلیم کی عظمت اور رفعت کے حق میں دلائل واضحہ پیش کرتے ہیں۔دنیوی علوم قرآن کریم کی تعلیم سے متضاد نہیں بلکہ اس کے تابع ہیں اس لئے دنیا جب قرآن کریم پر اس قسم کے عقلی اعتراضات کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پیدا کر دیتا ہے جو ان اعتراضات کو