انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 364
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۶۴ سورة ابراهيم ارتقا کے لئے کیا وہ ہم نے پورا کر دیا۔یہ تو ایک زاویہ نگاہ تھا۔دوسرا نقطۂ نگاہ جو دراصل پہلے بیان کرنا چاہیے تھا لیکن مصلحتاً میں نے اس کو پیچھے رکھا ہے یہ تھا کہ جو بھی تمہارے اندر قابلیت ہے اس کی بقا اور ارتقا اور کمال نشو و نما کے لئے جس چیز کی ضرورت تھی وہ ہم نے پیدا کر دی۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۸۴۲، ۸۴۳) آیت ۳۸ رَبَّنَا إِنّي اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلوةَ فَاجْعَلْ أَفَبِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِمْ وَارزُقُهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ اللہ تعالیٰ سورۃ ابراہیم میں فرماتا ہے۔فَاجْعَلْ اَفْبِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَھوی الیھم لوگوں کے دل ان کی طرف جھکا دے اس دعا کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ دل جیتنے کی توفیق ہمیشہ امت مسلمہ کے ہر گروہ کو عطا کرتا چلا جائے ، محبت کے ساتھ ، پیار کے ساتھ خدمت کے جذبہ کے ساتھ نیک نمونہ بن کر ایک ایسا اُسوہ نظر آئے ، ایک فرقان، ایک تمیز پیدا کرنے والی بات ایک احمدی مسلمان میں غیر مسلم کو نظر آئے کہ وہ مجبور ہو جائے اس طرف مائل ہونے پر اور اس کی طرف جھک کے اس سے پوچھنے پر کہ میرے اور تیرے میں جو فرق ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ بس بات شروع ہو گئی تبلیغ کی وہ مسلمان اسے کہے گا۔میں تو ایک عاجز انسان ، میں تو ایک نالائق انسان ہوں۔مگر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنے والا انسان۔میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے والا انسان، میں قرآن کریم کی اس تعلیم پر عمل کرنے والا انسان ہوں کہ دنیا میں جو دُکھی ہیں ان کے دُکھوں کو دُور کروں اور سکھ کے سامان جہاں تک میری طاقت میں ہے میں پیدا کروں۔میں نے خدا کو پایا اور اس کے نور کو دیکھا اس کی آواز کو سنا۔اس کی طاقت اور قدرت کے کرشمے میں نے اپنی زندگیوں میں مشاہدہ کئے۔ان ساری چیزوں نے میری زندگی میں تبدیلی پیدا کر دی ہے۔تم ایسا کرو گے تمہاری زندگی میں بھی یہ تبدیلی پیدا ہو جائے گی۔تو فَاجْعَلْ أَفْدَةٌ مِّنَ النَّاسِ تَهُونَی اِلَيْهِمْ یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ اے خدا! ہمیں توفیق عطا کر کہ ہم اس قابل ہوں کہ تیری خاطر اور تیرے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ایک جہاں کے دل جیتیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا کر رکھ دیں۔( خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۳۰۲)