انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 363 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 363

۳۶۳ سورة ابراهيم تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ساری کی ساری تمہیں عطا کی گئیں۔ہم نے تمہیں کان دیئے کان کا یہ مطالبہ تھا کہ صوتی لہروں کا انتظام کیا جائے ورنہ مجھ تک آواز کیسے پہنچے گی۔پھر اس کا یہ تقاضا بھی تھا کہ میرے اندر وہ نظام بھی پیدا کیا جائے کہ جو میں سنوں یا محسوس کروں وہ دماغ کے اس حصہ تک پہنچا دوں جہاں اس کو پہنچنا چاہیے۔پس اللہ تعالیٰ نے کان کے سارے مطالبے پورے کر دیئے۔اسی طرح آنکھوں نے پہلا مطالبہ تو یہ کیا کہ یہ جسم ایسا ہے کہ جس کے ذرے بدلتے رہتے ہیں اس لئے کھانے پینے کے ذریعہ ایسے ذرے ہمارے جسم میں داخل ہوں جن میں آنکھ کا ذرہ بننے کی قابلیت ہو ورنہ جس ذرہ میں پاؤں یا ناخن بنے کی قابلیت ہے وہ اگر آنکھ میں جائے تو آنکھ کو سرخ تو شاید کر دے مگر اس کے کچھ کام نہیں آ سکتا۔پس آنکھ کا جو اپنی تخلیق کے اعتبار سے بہت ہی عجیب چیز ہے یہ فطرتی تقاضا تھا کہ اسے ایسے اجزا یا ایسے ذرات میسر آئیں جو اس کا ذرہ بننے اور اس کے جو ہر کو اجاگر کرنے کی قابلیت رکھتے ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے آنکھ کا یہ مطالبہ پورا کر دیا۔آنکھ کا یہ مطالبہ تھا کہ میں ازخود کوئی چیز نہیں ہوں مجھے باہر کی روشنی کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے باہر کی روشنی پیدا کر دی۔آنکھ کا یہ تقاضا تھا کہ اُس تک خاص زاویوں سے روشنی کی لہریں پہنچیں تا کہ مختلف رنگوں اور سیاہ اور سفید میں فرق کر سکے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے آنکھ کے اس تقاضا کو بھی پورا کر دیا ہے۔علی ہذا القیاس انسانی دل کے مطالبے تھے۔اس کے ہاتھ کے مطالبے تھے۔اس کی پنڈلی کے گوشت کے لوتھڑے کا یہ مطالبہ تھا کہ اے خدا جو Chemical Composition ( کیمیکل کمپوزیشن ) تو نے میری بنائی ہے اس کے نتیجہ میں ایسی چیز مجھے میسر فرما کہ اگر میں بیمار ہو جاؤں تو وہ کان میں پہنچنے کی بجائے تیرے حکم سے میرے گوشت کو صحت مند کرنے کی کوشش کرے۔غرض اللہ تعالیٰ نے ایک تو ہر چیز کی کیمیکل کمپوزیشن اس طرح بنائی اور پھر اس کے مناسب حال ہر چیز پیدا کر دی۔فرمایا یہ دوا ٹانگ کے لئے اچھی ہے۔یہ دوا ناخنوں کے لئے اچھی ہے۔چنانچہ ایلو پیتھی کی رو سے بھی کان والی دوا ناک میں نہیں پڑسکتی اور نہ ناک والی کان میں۔یہ امتیاز، یہ سلیقہ یہ دوائی کا انتخاب دراصل ہر جسمانی عضو کی ضرورت کے مطابق ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے انسان حتی کہ اس کے ہر ایک عضو کے تقاضا کے مدنظر اس کے مناسب حال چیزیں پیدا کر دیں۔چنانچہ سورہ ابراہیم کی مندرجہ بالا آیہ کریمہ اسی حقیقت کی غماز ہے۔اللہ تعالیٰ نے بڑے پیارے انداز میں فرمایا کہ ہر وہ مطالبہ جو تمہارے وجود نے ہم سے اپنی بقا اور اپنے