انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 357 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 357

۳۵۷ سورة ابراهيم تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث گا کہ ایک ہی ہستی ہے جس پر تو کل کیا جا سکتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے۔ہم زندہ خدا کی زندہ تجلیات کو دیکھنے والے اور اس یقین پر قائم ہیں کہ ہمیں بحیثیت جماعت اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔جس طرح بحیثیت فرداس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔اُسی طرح بحیثیت جماعت اُس نے ہمیں قائم کیا ہے اور جن اغراض کے لئے اُس نے ہمیں قائم کیا ہے اور جن راہوں پر وہ ہمیں چلانا چاہتا تھا وہ قد هَدنَا سُبُلَنَا کی رو سے واضح ہیں۔اُس نے ہمیں اپنے راستے دکھائے ہیں۔انسانی فطرت کے نئے تقاضے ہوتے ہیں۔البتہ فطرت کے نئے تقاضے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ انسانی فطرت ہی بدل گئی بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں جو کچھ رکھا گیا تھا، اس کا استعمال بدل گیا کیونکہ انسان کی فطرت میں تھا دوسرے آدمی سے ہمدردی کرنا اور اس کے دُکھوں کا مداوا کرنا۔اگر دنیا کے دُکھ بدل جائیں تو گو یا فطرت کے تقاضے بھی بدل گئے۔پھر ایک نئے طریقے پر ، نئے دُکھوں کا نیا علاج سوچنا پڑے گا۔پھر وقت کا تقاضا ہے۔بدلے ہوئے حالات میں ہماری قربانیاں اور ہمارے خدمت کے طریق بدل جاتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اور اپنی محبوب جماعتوں کونئی راہیں بتاتا ہے اور انہیں نئے طریقے سکھاتا ہے۔نئے نئے طریقوں سے انہیں ترقی پر ترقی دیتا چلا جاتا ہے۔(خطبات ناصر جلد چہارم صفحه ۱ تا ۳) آیت ۲۶۲۵ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِ أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا وَيَضْرِبُ اللهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ۔یہ قرآن کریم کی اس آیت کی تفسیر ہے اَلَم تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِي أَكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبَّهَا وَيَضْرِبُ اللهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَرُونَ۔یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ایک کلام پاک (یعنی قرآن کریم ) کی حقیقت کو بیان کیا ہے۔یعنی وہ ایسا ( كَلِمَةً طَيِّبَةً ) ہے جس کی مثال ایک پاک درخت کی طرح ہے جس کی جڑ مضبوطی کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ متقی بناتا اور تقویٰ کی راہوں پر ثبات قدم عطا کرتا ہے اور اس طرح اس کی جڑ مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جاتی ہے۔پھر اس سے