انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 356 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 356

۳۵۶ سورة ابراهيم تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث تو گل کیا جا سکتا ہے ( کہ اس کے بغیر کوئی سہارا نہیں اور اس کی مدد سے کامیابی اور فلاح حاصل ہوگی اور عمل کے نتائج اچھے نکلیں گے ) جو ہمیں عمل کی راہیں بھی بتائے یعنی وہ شروع سے ہماری انگلی پکڑے۔فرمایا وَمَا لَنَا اللَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللهِ وَقَدْ هَدْنَا سُبُلَنَا اللہ تعالیٰ جس نے ہماری انگلی پکڑی اور ہمیں ہدایت کی راہ یعنی صراط مستقیم پر چلایا اس پر ہم کیسے تو گل نہ کریں۔دوسری بات اس آیت میں یہ بتائی کہ مخالف اور دشمن کی ایذارسانی پر صبر اسی صورت میں کیا جاسکتا ہے کہ جب انسان نے کسی قادر ہستی کی انگلی پکڑی ہوئی ہو۔اگر کوئی ایسا قابل اعتماد بھروسہ ہی نہ ہو تو انسان بے صبرا ہو جائے گا کیونکہ انتہائی دُکھوں میں ڈالے جانے کے بعد انتہائی تو کل وہی انسان کر سکتا ہے۔(اور پھر تو کل ہی کے نتیجہ میں صبر پیدا ہوتا ہے) جسے یہ معلوم ہو اور جس کا یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی وہ ہستی ہے جس نے شروع ہی سے ہماری راہنمائی اور کامیابی کے سامان پیدا کر رکھے ہیں۔ہماری استطاعت کے مطابق اور ہمارے ماحول کے لحاظ سے اور جو وقت کا تقاضا تھا اُسے سامنے رکھ کر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ہدایت کے سامان پیدا کر دیئے ہیں۔اگر ہم اس کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلیں گے، اُس کی ہدایتوں پر عمل کریں گے تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم نا کام ہوں۔غرض جب انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اپنی کمزوری اور اپنے گناہ اور اپنی بے مائیگی کا احساس انتہا تک پہنچتے ہوئے بھی ایک انتہائی قادر مطلق خدا پر اُس کا ایمان ہوتا ہے۔اس کی صفات کی معرفت اُسے حاصل ہوتی ہے پھر جب وہ خدا کے بتائے ہوئے راستہ پر چلتا ہے تو غیر کی قائم کردہ روکیں اُسے ڈراتی نہیں۔وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا أَذَيتُمُونَنا میں مومنوں کی یہی صفت بتائی گئی ہے۔اس آیت میں تیسری بات وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكَّلُونَ ہے۔اس میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے نہ عقلاً نہ فطرتا، نہ شرعاً اور نہ مشاہدہ کے لحاظ سے کسی اور پر تو گل ہوسکتا ہے۔ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک ایک یہی صداقت ثابت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔تو کل اُسی پر کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہی حقیقی سہارا ہے۔پس وَ عَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ المُتوخون کی رو سے جس آدمی نے تو کل کرنا ہو خواہ وہ ایک فرد ہو یا قوم، جس کو بھی یہ احساس ہو کہ میں اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔مجھے کسی سہارے کی ضرورت ہے۔تو اس کی عقل بھی اُسے یہی مشورہ دے گی ، اُس کی فطرت کا بھی یہی تقاضا ہو گا اور بنی نوع انسان کی تاریخ کا بھی یہی نتیجہ نکلے