انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 355
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطنا ۳۵۵ سورة ابراهيم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة ابراهيم آیت ۸ وَإِذْ تَاذَنَ رَبُّكُمْ لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَبِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيده جس مومن کا دل اس کے شکر سے بھر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ اور دور اس کے لئے شروع ہو جاتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے لین شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ یعنی میرا شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔پس جب اللہ تعالیٰ کا انعام نازل ہوا اس لئے کہ اس نے ہماری حقیر سی کوشش کو قبول فرما لیا تو اس کے نتیجہ میں ہمارے دل میں شکر کے جذبات پیدا ہوئے فرما یا لرزید لکم کہ میں تمہیں اور نیکیوں کی توفیق بخشوں گا۔پھر اس کی وجہ سے اور شکر کے جذبات پیدا ہوں گے۔گویا اس طرح ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جائے گا۔اسی تسلسل اور مخلصانہ نیت کی وجہ سے اُخروی زندگی محدود اعمال کے باوجود ابدی زندگی ہو جائے گی۔(خطبات ناصر جلد اوّل صفحہ ۶۲) جس مومن کا دل اس کے شکر سے بھر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ اور دور اس کے لئے شروع ہو جاتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے لہن شكرتم لازيد لكُم یعنی میرا شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔آیت ۱۳ وَمَا لَنَا اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللهِ وَقَدْ هَدْنَا سُبُلَنَا وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى ما اذيتُمُونَا وَ عَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكَّلُونَ اس آیہ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے تین اصولی باتیں بیان فرمائی ہیں پہلی بات یہ کہ عقلاً صرف ایسی ہستی پر