انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 352 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 352

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۳۵۲ سورة الرعد مقصد ہے۔بڑا پیارا مقصد ہے۔مومن یہ سوچے گا کہ ایٹم کی طاقت بے مقصد نہیں ہے اور خدا تعالیٰ نے مقصد اصولی طور پر قرآن کریم میں یہ بتایا ہے کہ وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثيه: ۱۴) کہ بلا استثنا ہر چیز کو انسان کی خدمت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ایٹم کی طاقت کا بھی یہی مقصد ہے لیکن جنہوں نے ایٹم کی طاقت کو نکالا وہ اس کا استعمال کچھ حد تک صحیح بھی کر رہے ہیں اور بہت حد تک غلط بھی کر رہے ہیں یا کر سکتے ہیں۔ایسے مہلک ہتھیار بنالئے ہیں۔ایک مومن کا دماغ کہے گا کہ ایٹم کا یہ مقصد تو نہیں کہ جو چیز انسان کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہے وہ اس کی گردن اڑا دے وہ تو انسان کے فائدے کے لئے ہی استعمال ہونی چاہیے لیکن جو خدا تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتے جو خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت نہیں رکھتے جو اللہ تعالیٰ کو پہچانتے نہیں جن کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ذاتی تعلق نہیں وہ بہکتے ہیں اور دنیا کے لئے تکلیف کا اور دُکھ کا سامان پیدا کرنے میں کوئی حجاب اور جھجک نہیں محسوس کرتے۔ان میں سے بعض کو دوسروں کو تکلیف پہنچانے میں لذت محسوس ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو شخص خدا تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہتا ہے۔اس کے لئے چین اور سکون اور اطمینان کی زندگی مقدر ہو جاتی ہے۔ہم صرف اپنے لئے سکھ نہیں چاہتے بلکہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ ساری دنیا کو اطمینان اور سکھ پہنچانے کے لئے جماعت احمدیہ کا قیام کیا گیا ہے۔اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم ایک طرف تو خدا تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہیں۔اس معنی میں کہ ہمارے دل بھی ذکر کر رہے ہوں اور ہماری زبانوں پر بھی اس کا ذکر ہو۔اس معنی میں کہ ہمارا ذاتی تعلق اپنے رب کریم سے ہو۔اس معنی میں کہ ہم اپنی سمجھ اور طاقت کے مطابق اس کی صفات اور اس کے اسمائے حسنہ کا عرفان رکھنے والے ہوں۔ہمیں ان اسماء کی معرفت حاصل ہو ان کے مطابق ہم اپنی زندگیاں ڈھالنے والے ہوں۔وہ رنگ ہم اپنے اعمال پر چڑھانے والے ہوں اور خدا تعالیٰ کی مخلوق کے محض انسان نہیں، خدا تعالیٰ کی مخلوق کے سکھ اور چین کا انتظام کرنے والے ہوں۔اس لئے جماعت کو کثرت سے خدا تعالیٰ کے ذکر میں، دل کے ذکر میں بھی اور زبان کے ذکر میں بھی مشغول رہنا چاہیے اور اس کے ساتھ ہی آجاتا ہے دعا کرنا۔انسان اپنے زور سے نہ خود اپنے لئے کچھ حاصل کر سکتا ہے نہ دنیا کے لئے کچھ حاصل کر سکتا ہے جب تک اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے بندوں کو اس کی توفیق عطا نہ کرے ایسا نہیں ہوسکتا۔پس کثرت