انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 28 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 28

۲۸ سورة المائدة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث جَاهِدُوا میں جس دوسرے مخالف سے مقابلہ کرنے کا ذکر آتا ہے وہ ہے شیطانی کوششوں کا مقابلہ۔شیطان چھپی ہوئی راہوں سے آتا اور خدا کے دین کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے مثلاً پچھلے چودہ سو سال سے یہودی اور عیسائی اسلام کے خلاف وساوس پیدا کرنے کی انتہائی کوشش کرتے چلے آ رہے ہیں لیکن پچھلے چودہ سو سال میں اسلام میں ترقی اور تنزل، اتار چڑھاؤ تو نظر آتا ہے لیکن کوئی زمانہ ایسا نہیں ہوا کہ جس میں خدا تعالیٰ کے لاکھوں محبوب بندوں نے اسلام کی شمع کو روشن نہیں رکھا۔روشنی کبھی تیز تھی اور کبھی کم۔اس سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ قریہ قریہ اور گاؤں گاؤں اور ملک ملک ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے جنہوں نے اسلام کی شمع کو بجھنے نہیں دیا۔یہاں تک کہ پھر مہدی علیہ السلام بدر منیر کی حیثیت سے دنیا کی طرف مبعوث ہو کر آگئے اور اب خدا تعالیٰ کے اس بندے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرزند کے ذریعہ سورج (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے اخذ کی ہوئی روشنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اور آپ سے لی ہوئی روشنی ، ساری دنیا میں پھیلانے کا کام شروع ہو چکا ہے اور یہ ہر شخص کو نظر آ رہا ہے عیسائیوں کو بھی اب نظر آ رہا ہے کہ اسلام کی روشنی اُن جگہوں پر پہنچ گئی جن کے متعلق ان کو خیال بھی نہیں تھا کہ اسلام کبھی ان کے اندھیروں کو چیرتا ہوا اپنی روشنی کی شعاعوں کے ساتھ ان اندھیروں کے بعض مقامات کو منور کرنا شروع کر دے گا۔بہر حال جَاهِدُوا فِي سَبِيلِہ میں یہ بھی حکم ہے کہ شیطانی وساوس اور اعتراضات کا مقابلہ بھی اپنی انتہائی کوشش کے ساتھ کرو۔پھر انسان کا اپنا ہی نفس اس کا اپنا ہی شیطان بن جاتا ہے اور اپنا ہی نفس اپنے ہی نفس کو خدا تعالیٰ سے دور لے جانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے اور دنیا کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور دنیا جو کسی سے وفا نہیں کرتی اس کی خاطر وہ اس کو جس سے بڑھ کر کوئی وفا کرنے والا نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کو وہ چھوڑ دیتا ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنے کلام میں اس دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے بھی ہمیں ہدایتیں دی ہیں جنہیں ایک مسلمان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۴۴۴ تا ۴۵۱)