انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 351 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 351

۳۵۱ سورة الرعد تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث دیا تھا۔انہوں نے ایک جگہ ذکر کے سلسلہ میں عربی کے معنی بتاتے ہوئے بنی اسرائیل اور امت محمدیہ میں مقابلہ کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کو یہ کہا گیا کہ میری نعمتوں کو یاد کرو اور میرا ذکر کرو اور امت محمدیہ کو کہا گیا کہ میرا ذکر کرو وہاں نعمتوں کا کوئی ذکر نہیں بلکہ کہا گیا ہے کہ میرا ذکر کرو میں تمہیں اس کا بدلہ دوں گا اور یہ امت محمدیہ کی خصوصیت ہے۔ذاتی تعلق تو پہلوں نے بھی اپنے ربّ سے رکھا لیکن جس رنگ میں امت محمدیہ کو مد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اپنے پیارے رب سے ذاتی تعلق رکھنے کی توفیق ملی وہ پہلی امتوں کو نہیں ملی۔خدا سے ذاتی تعلق کے لحاظ سے امت محمدیہ اور پہلی امتوں میں ایک بہت بڑا فرقان تمیز پیدا کرنے والا ہے کہ کچھ ہو جائے، زمین و آسمان تہہ و بالا ہو جائیں، دنیا کے لحاظ سے زندگی اجیرن بن جائے یعنی لوگ یہ سمجھیں کہ زندگی کا ایک ایک لمحہ تکلیف میں گزرنے والا ہے جیسا کہ شعب ابی طالب میں کم و بیش اڑھائی سال تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کو اس طرح قید میں رکھا گیا کہ باہر سے کھانے پینے کا سامان بھی نہیں جاسکا۔خدا تعالیٰ نے ایسا سامان تو پیدا کیا گو تاریخ نے ہمیں نہیں بتایا کہ وہ کیا سامان تھا لیکن بہر حال ایسا سامان پیدا کیا کہ ان کو بھوکا نہیں مارا ، مگر انتہائی تنگی کے زمانہ میں سے وہ گذرے لیکن ان کے چہروں کی مسکراہٹیں تو نہیں چھینی گئی تھیں، اس زمانہ میں انہوں نے اپنے رب سے اپنا تعلق تو قطع نہیں کر لیا تھا۔اس کو کہتے ہیں تعلق ذاتی، خدا تعالیٰ سے ذاتی محبت کا تعلق رکھنا اور یہ قلب کے ساتھ ہے۔انسان کا دل سوچتا ہے اور خدا تعالیٰ کی صفات پر غور کرتا ہے۔خدا تعالیٰ نے جو اس جہان کو پیدا کیا اس عالمین کو پیدا کیا اس کے مختلف پہلوؤں پر جب انسان نظر رکھتا ہے تو اس نتیجے پر پہنچتا ہے اور کہتا ہے علی وجہ البصیرت کہتا ہے کہ میرے رب نے کسی چیز کو بے مقصد نہیں پیدا کیا۔يَذْكُرُونَ اللهَ فِيمَا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَ رضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔(ال عمران : ۱۹۲) کہ تو پاک ذات ہے تو نے کوئی چیز بے مقصد نہیں بنائی۔مومنوں پر الہی سلسلوں پر جو ابتلا آتے ہیں وہ بھی بے مقصد نہیں وہ ان کو مارنے کچلنے اور ہلاک کرنے کے لئے تو نہیں آیا کرتے ، وہ ان کی شان ظاہر کرنے کے لئے وہ ان کی روحانی ترقیات کے لئے ، وہ خدا تعالیٰ کے پیار کے زیادہ حصول کے سامان پیدا کرنے کے لئے آیا کرتے ہیں۔وہ بے مقصد نہیں ہیں ان کا مقصد ہے اور بڑا عظیم مقصد ہے۔بڑا حسین ج