انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 350
۳۵۰ سورة الرعد تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث اطمینان قلب حاصل ہو سکتا ہے اور مومن اسے حاصل کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کی جماعتوں پر کشائش اور فراخی اور خوشی اور دنیوی اعتبار سے مسرتوں کے دن بھی آتے ہیں اس وقت بھی وہ ہنس رہے ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی جماعتوں پر امتحان کے دن بھی آتے ہیں، آزمائش میں سے بھی ان کو گذرنا پڑتا ہے اور وہ خدا کے لئے اس آزمائش کو مسکراتے چہروں کے ساتھ سہہ جاتے ہیں اور پھر وہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرتے ہیں۔یہ آزمائش دنیا کی نگاہ میں سختی کے دن ہیں لیکن مومن کی نگاہ میں خدا تعالیٰ کے قرب کو زیادہ حاصل کرنے کا زمانہ ہے اور خدا تعالیٰ کے قرب کو زیادہ حاصل کرتا ہے مومن۔الا بذكرِ اللهِ تَطْمَينُ الْقُلُوبُ لغت عربی ذکر کے معنی کرتے ہوئے یہ بیان کرتی ہے کہ ذکر زبان سے بھی ہوتا ہے اور دل کے ساتھ بھی کیا جاتا ہے۔زبان سے ذکر کرنے کے لئے ہمیں کہا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کا ورد کرو، خدا تعالیٰ کی تقدیس کرو تحمید کرو، اس کی حمد کرو۔اسے ہر نقص سے پاک قرار دو۔زبان کے ساتھ اقرار کرو، اپنے نفس کے سامنے بھی اور دنیا کے سامنے بھی کہ جس اللہ پر ہم ایمان لائے ہیں وہ قدوس ذات ہے۔وہ ہر قسم کے نقص اور عیب اور کمزوری اور بُرائی سے پاک ذات ہے۔کسی قسم کی کمزوری اور برائی ہمارے اللہ کی طرف منسوب ہی نہیں ہو سکتی اور ہر قسم کی تعریف کا سرچشمہ بھی وہی ہے یعنی جہاں کہیں کسی اور میں ہمیں کوئی تعریف کے قابل چیز نظر آتی ہے اس کا سر چشمہ اور منبع خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور تمام محامد کا مرجع اس کی ذات ہے۔ہر حمد خدا تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحة: ۲) ہم یہ ور بھی کرتے ہیں لیکن یہ جو ورد ہے یہ انسان کی محدود زندگی میں مزید حد بندیوں کے اندر بندھا ہوا ہے مثلاً ایک استاد ہے وہ کلاس میں ٹیچر دے رہا ہے اس وقت وہ سُبحان اللہ اور الْحَمدُ لِلہ کا ور نہیں کر سکتا لیکن اس کے دماغ کا ایک پہلو ایسا ہے جو اس محدود زندگی میں اس قسم کی حدود کے اندر بندھا ہوا نہیں اور وہ ہے ذکر بالقلب یعنی دل کے ساتھ ، اپنی فراست کے ساتھ ، اپنے ذہن کے ساتھ ، اپنے مائنڈ (Mind) کے ساتھ خدا تعالیٰ کے ذکر میں لگے رہنا اور اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ذات کو پہچاننا اور اس کی صفات کی معرفت رکھنا اور خدا تعالیٰ سے ایک ذاتی تعلق کو قائم کرنا، خدا تعالیٰ سے یہ تعلق بغیر کسی ایسی وجہ کے رکھنا جس کا تعلق مادی نعمتوں سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی انسان پر بے شمار مادی نعمتیں ہیں لیکن ان واسطوں کے ساتھ نہیں بلکہ بلا واسطہ تعلق قائم کرنا۔امام راغب کو خدا تعالیٰ نے بڑا بزرگ دل اور بڑا صاحب فراست دماغ